امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے تقریباً ہر چیز پر اتفاق کر لیا ہے ،ہم ایران کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے بہت قریب ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بہت زبردست کردار ادا کیا ہے،اگر ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کے دستخط اسلام آباد میں ہوئے تو وہاں جا سکتا ہوں ،پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہت زبردست شخصیات ہیں،دونوں کا بہت مثالی کردار رہا ہے۔
ایران معاہدے کیلئے تیار مگر اضافی شرائط قبول نہیں، ایرانی سفیر کا دوٹوک مؤقف
ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے،ایران کے معاملے میں بہت پیش رفت ہو رہی ہے ،اگلی ملاقات رواں ہفتے کے آخر میں ہو سکتی ہے ،ایران آج وہ کام کرنے کو تیار ہے جو وہ پہلے نہیں کرنا چاہتا تھا۔
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی بہتر طریقے سے جاری ہے،ایران افزودہ یورینیم ہمیں دینے پر تیار ہے ،ہمارے پاس طاقتور بیان موجود ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔
یہ معاہدہ 20 سال سے زائد مدت تک کیلئے ہے،اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے گی،یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایران جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت ہے یا نہیں،ایران نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
ایران نہ مانا تو امریکا دوبارہ جنگ کرنے کیلئے تیار ہے، امریکی وزیر جنگ
اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی،معاہدہ ہونے سے افراطِ زر اور مہنگائی میں کمی ہو جائے گی،ایران کے ساتھ اس وقت ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہوگئی ہے،لبنان کے ساتھ 10 روزہ عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے ،بہت اہم بات ہے کہ پوپ لیو اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ایران دنیا کیلئے ایک خطرہ ہے۔
ہم ایک اور جنگ رکوانے میں کامیاب ہوگئےہیں،حزب اللہ بھی جنگ بندی میں شامل ہوگا ،اسرائیل نے جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹنے کے حزب اللہ کے مطالبے سے اتفاق نہیں کیا۔
ایران کے منجمد 100 ارب ڈالر کونسے ممالک میں پڑے ہیں؟
میرا خیال ہے کہ ہمارا معاہدہ طے پانے والا ہے،لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں کی ملاقات ایک یا دو ہفتوں میں وائٹ ہاؤس میں ہو سکتی ہے،مناسب وقت پر لبنان کا دورہ کروں گا۔
