امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ Pete Hegseth نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے معاہدے پر اتفاق نہ کیا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ہم ایران پرنظررکھے ہوئے ہیں اور اس کی تمام عسکری سرگرمیوں سے آگاہ ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران تباہ شدہ لانچرز کو زمین سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ اس کے بعض فوجی اثاثے بھی منتقل کیے جا رہے ہیں اگرایران نے غلط فیصلہ کیا تو اسے نہ صرف ناکہ بندی بلکہ بمباری کا بھی سامنا کرنا پڑیگا اورمزید کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے زخمی ہونے کا شبہ ہے لیکن وہ زندہ ہیں۔
34 برس بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کی تیاری
امریکی وزیر دفاع نے “آپریشن ایپک فیوری” کو امریکا کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد اب “اکانومک فیوری” کے تحت ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالا جائے گا۔
ان کے مطابق امریکی ناکہ بندی پہلے ہی ایران کی برآمدات کو متاثر کر رہی ہے اوراسے ضرورت پڑنے تک جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی ایران کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سمندری راستوں پرکنٹرول امریکی بحریہ کے پاس ہے جبکہ تجارتی جہازوں کو دھمکیاں دینا کنٹرول نہیں بلکہ قزاقی ہے اورایران کے پاس اب بحری فوج نہیں رہی۔
پیٹ ہیگستھ نے زور دیا کہ امریکا کے پاس دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے اوروہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
