ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے ایک اہم تنازع بن کر سامنے آئے ہیں۔
ایران کے تقریباً 100 ارب ڈالر سے زائد اثاثے مختلف ممالک میں منجمد ہیں، جن تک رسائی پر پابندیاں عائد ہیں۔
یہ اثاثے وہ رقوم ہیں جو ایران نے تیل کی فروخت اور دیگر ذرائع سے حاصل کیں، لیکن امریکی اور عالمی پابندیوں کے باعث انہیں غیر ملکی بینکوں میں روک دیا گیا۔
امریکا کا ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
ایران پر پابندیوں کا آغاز 1979ء کے بعد ہوا ، یہ پابندیاں جوہری پروگرام کے باعث مزید سخت کر دی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے چین میں کم از کم 20 ارب ڈالر، بھارت میں 7 ارب ، عراق 6 ارب ، قطر 6 ارب ، جاپان میں 1.5 ارب ڈالر اور امریکا میں تقریباً 2 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں ، ان ممالک میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ: ایران نے واضح اعلان کر دیا
ایران کے لیے ان اثاثوں کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے کیونکہ ایرانی معیشت کئی برسوں سے پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے مسائل بڑھ چکے ہیں۔ اثاثوں کی بحالی سے ایران اپنی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے۔
