پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اداکارہ و ٹی وی میزبان فضا علی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریٹنگز کے حصول کے لیے حد سے گزرنے کی روش اپنائے ہوئے ہیں، اور حالیہ واقعہ اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
عظمیٰ بخاری نے ایک انٹرویو کے دوران سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دکھایا گیا منظر اگرچہ بظاہر ہلکا پھلکا تھا، تاہم اس نے عوامی سطح پر ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔
فواد اور عائزہ خان پہلی بار ایک ساتھ بڑی فلم میں جلوہ گر ہونے کو تیار
انہوں نے موجودہ میڈیا ماحول پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مواد سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اخلاقی حدود اور ادارتی ذمہ داری کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے مناظر نشر کرنے سے مواد کے معیار اور پیشہ ورانہ اصولوں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے لائیو نشریات کے حوالے سے کہا کہ متعلقہ پروگرام کو نشر ہونے سے قبل باآسانی ایڈٹ کیا جا سکتا تھا، مگر اسے اسی حالت میں آن ایئر کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریٹنگز کو ادارتی فیصلوں پر فوقیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بطور والدہ بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا مواد فیملی آڈینس، خصوصاً بچوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، اس لیے نشریاتی اداروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔
ایران کا شاہ رخ خان کے مشہور ڈائیلاگ کے ذریعے ٹرمپ کو کرارا جواب
وزیرِ اطلاعات نے مزید کہا کہ فضا علی کے حوالے سے اس نوعیت کے تنازعات پہلی بار سامنے نہیں آئے، بلکہ یہ ایک مسلسل رجحان کی عکاسی کرتے ہیں جہاں توجہ ریٹنگز کے حصول پر مرکوز رہتی ہے۔
انہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ متعلقہ حکام اس کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
