عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی امیدیں ہیں۔
اسپاٹ گولڈ 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,821.44 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد بڑھ کر 4,844.40 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ ڈالر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہا، جس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو گیا، جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران جنگ بندی کی امید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر قیمت 4,900 ڈالر سے اوپر جاتی ہے تو اگلا ہدف نفسیاتی حد 5,000 ڈالر ہو سکتا ہے۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے پر امید ظاہر کی ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے مزاحمت جاری رکھی تو اس پر معاشی دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں اب بھی معمول سے کم ہیں۔
یاد رہے کہ فروری میں ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے سونے کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زائد کمی بھی آ چکی ہے، کیونکہ توانائی کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھنے اور شرح سود زیادہ رہنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔
اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی طلب کو متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ منافع نہیں دیتا۔ امریکا میں تاجروں کے مطابق اس سال شرح سود میں کمی کا امکان اب 29 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ جنگ سے قبل دو بار کمی کی توقع کی جا رہی تھی۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ 80.41 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد بڑھ کر 2,135.58 ڈالر، جبکہ پیلیڈیم 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,587.39 ڈالر تک پہنچ گیا۔
