تہران: ایرانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ دشمن ممالک سے تعلق رکھنے والے تیل بردار اور بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیئے گئے ہیں۔ اور ملک کی سلامتی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے نئے نظام اور طریقہ کار متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ جن میں ٹول ٹیکس اور ٹرانزٹ چارجز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کے لیے ایرانی حکام کے ساتھ پیشگی رابطہ اور ہم آہنگی لازمی قرار دی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے خطے میں دباؤ اور ممکنہ ناکہ بندی کے اقدامات کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس کے باعث سمندری آمدورفت میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں افراد کیلئے رہائشی اور ورک ویزوں کا اعلان، اسپین کی نئی امیگریشن پالیسی جاری
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس اسٹریٹجک گزرگاہ کو نہ صرف سیکیورٹی بلکہ سفارتی اور سیاسی دباؤ کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ جبکہ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ “سب کے لیے سیکیورٹی یا کسی کے لیے نہیں” کا اصول یہاں بھی لاگو ہو گا۔
