ماسکو: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے چین کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو واشنگٹن کے ساتھ انکریج میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں طے پانے والے معاہدوں پر قائم ہے۔ جن کی توثیق صدر ولادیمیر پیوٹن کئی بار کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس نے الاسکا میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی تجاویز کو نیک نیتی سے قبول کیا۔ جن میں یوکرین میں زمینی حقائق کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کی بات شامل تھی۔ تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں اور کریمیا و ڈونباس کو عارضی طور پر مقبوضہ قرار دیتے ہیں۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ مذاکراتی عمل کا آغاز سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کیا تھا۔ تاہم موجودہ امریکی انتظامیہ جو بائیڈن کے دور کی پابندیوں کو برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ برسلز، پیرس، برلن اور لندن میں یورپی قیادت ان معاہدوں پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
لاوروف نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے یوکرین میں “استحکامی دستے” بھیجنے کی تجاویز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات امریکی تکنیکی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا مزید دو ہفتوں کیلئے جنگ بندی میں توسیع پر آمادہ
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس دیگر ممالک کے ساتھ بھی مکالمے کے لیے تیار ہے اور ولادیمیر پیوٹن مسلسل مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے آئے ہیں۔ تاہم بات چیت اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب تمام فریقین اپنے قومی مفادات کی نمائندگی کریں۔
