امریکی صدر نے ایرانی پاور پلانٹ اور انفرااسٹرکچر کیخلاف 5 دن کیلئے حملے ملتوی کرنے کا حکم جاری کردیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ 2 روز میں ایران کیساتھ اچھی اور تعمیری بات چیت ہوئی،ایران کیساتھ مذاکرات پورا ہفتہ جاری رہیں گے،ایران پر حملے ملتوی رہنےکا انحصار ایران کے ساتھ جاری بات چیت کی کامیابی پر ہوگا۔
ایران آرمی کے ترجمان کا امریکی صدر ٹرمپ کو طنزیہ پیغام عالمی توجہ کا مرکز بن گیا
علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے پرعزم ہیں،ایران کی موجودہ صورتحال کو رجیم چینج کہا جاسکتا ہے۔
ایران کے ساتھ 5 یا اس سے بھی کم دنوں میں معاہدہ ہو سکتا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بہت بری طرح سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہمارے مضبوط مذاکرات ہوئے ہیں،دیکھیں گے کہ یہ مذاکرات کس سمت جاتے ہیں،اہم نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے،وٹکوف اور کشنر نے ایرانی حکام سے مذاکرات کیے ہیں،اگر ان مذاکرات پر عملدرآمد ہوا تو یہ تنازع ختم ہو جائے گا۔
ایران کیساتھ معاہدے سے متعلق اتوار کی رات مذاکرات ہوئے،فاکس نیوز
اتوار کو شام تک بات چیت جاری رہی، وہ بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ،غالباً آج فون پر بات چیت ہوگی،جلد ملاقات کی امید ہے،امید ہے یہ معاملہ حل ہو جائے گا ،امریکا نے ایران کے اعلیٰ ترین معتبر رہنما سے بات کی ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کی جانب سے ابھی کچھ نہیں سنا،میں نہیں چاہتا کہ وہ مارے جائیں،معلوم نہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں یا نہیں،ہم جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں۔
جوہری مواد کا خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ اس پر راضی ہو گئے ہیں ،ہم افزودگی کا خاتمہ اور کنٹرول چاہتے ہیں،اگر معاہدہ ہو جاتا ہے، تو یہ ایران اور خطے کیلئے ایک بہترین آغاز ہوگا،اضافی جنگی فنڈزکا پاس ہونا ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضمانت نہیں دے سکتا،معاہدہ ہونے کی صورت میں ہمارے لیے افزودہ یورینیم حاصل کرنا آسان ہوگا،میں چاہتا ہوں کہ سسٹم میں زیادہ سے زیادہ تیل موجود رہے،میرا نہیں خیال کہ ایران کو تیل کی مد میں کوئی رقم مل رہی ہے۔
امریکی صدر کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں گر گئیں
ہم جنگی حکمت عملی پر بات نہیں کرتے،ایران میں بجلی گھروں کو نشانہ بنانا یوکرین کی صورتحال سے مختلف ہوگا،میرا خیال ہے ایران ایک واضح خطرہ تھا ،اگر ہم بی ٹو بمبار طیاروں سے حملہ نہ کرتے تو ایران 2 ہفتوں میں جوہری ہتھیار بنا لیتا۔
ہم جانتے تھے ایران جوہری ہتھیار بنا لے گا اسی لیے ہم نے حملہ کیا ،ایرانی جو کہہ رہے ہیں مذاکرات نہیں ہو رہے انہیں کچھ پتہ ہی نہیں ،ایران کے پاس مواصلاتی نظام نہیں ہے توتصور کریں ان کے پاس رابطوں کا کتنا فقدان ہو گا؟
ایران کے ساتھ 15 نکاتی معاہدے پر گفتگو ہو رہی ہے،پہلے 3 نکات جوہری ہتھیاروں سے متعلق ہیں،ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لیڈر نہیں مانتا ،ایران میں مشترکہ حکومت کر سکتے ہیں،مشترکہ حکومت میں شاید میں شامل ہوں۔
سوئٹزرلینڈ نے امریکا سمیت ایران جنگ میں شامل ممالک کو اسلحے کی فراہمی معطل کر دی
ایران پر مشترکہ حکومت میں جو کوئی بھی آیت اللہ ہیں اور میں شامل ہو سکتے ہیں ،یہ بھی ہو سکتا ہے ایسا لیڈر تلاش کر لیں جیسا وینزویلا کیلئے کیا ،معاہدہ ہو گیا تو تیل کی قیمتیں پتھر کی طرح گریں گی ،معاہدہ ہو گیا تو آبنائے ہرمز جلد کھول دی جائے گی۔
