اڈیالہ جیل میں شریف فیملی کی پہلی جمعرات، پہلی ملاقاتیں


راولپنڈی: مسلم لیگ نون کے رہنماؤں اور شریف فیملی کے سترہ سے زیادہ افراد نے جمعرات کے روز سابق وزیراعظم  نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر سے ملاقات کی۔

ملاقات کرنے والوں میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر، ان کی دونوں بہنیں مہرالنسا اور ماہ نور شامل ہیں، شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز اور نصرت شہباز نے بھی اڈیالہ جیل میں ان  سے ملاقات کی۔

مسلم لیگ کے کئی رہنماؤں نے بھی تینوں قیدیوں سے جیل میں ملاقات کی جن میں پرویز رشید، مریم اورنگزیب، راجہ ظفرالحق، چوہدری تنویر، طارق فاطمی، عرفان صدیقی، ایاز صادق، گورنر سندھ  محمد زبیر، خرم دستگیر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقاتوں کا سلسلہ شام  چار بجے تک جاری رہا، سابق وزیراعظم سے ملاقات شناختی کارڈ  کے بغیر ممکن نہیں تھی اس لیے تمام ملاقاتیوں کو اپنے اصل شناختی کارڈز دکھانے پڑے۔

میاں نواز شریف ملاقات کے لیے خاص طور پر علی الصبح تیار ہوئے اور روایتی لباس شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ پہنا جبکہ ان  کی تیاری میں مشقتی نے بھی اہم کردار ادا کیا،  مریم نواز بھی روایتی انداز میں تیار ہوئیں،

جیل ذرائع کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر سے تمام ملاقاتیں جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے سے ملحق مہمان خانے میں ہوئیں اور ہر ملاقات سے پہلے میاں نواز شریف کی مرضی معلوم کی گئی، ملاقات سے قبل تمام افراد کے موبائل فونز جیل کے عملے نے اپنی تحویل میں لی لیے تھے۔

جیل ذرائع کے مطابق ملاقات کرنے والوں میں شریف خاندان کے سترہ افراد کے علاوہ تئیس نون لیگی رہنما بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے تین رکنی وفد نے بھی اڈیالہ جیل میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر سے ملاقات کی جس کا مقصد انہیں فراہم کی گئی سہولتوں کے متعلق معلومات حاصل کرنا تھا، وفد میں نائب صدر پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یاسین آزاد  اور سابق صدر سندھ  ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن خالد جاوید شامل تھے۔


متعلقہ خبریں