پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایڈہاک لیکچررز کی ریگولرائزیشن سے متعلق ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بل پاس کرنے کے لیے صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے تحریک پیش کی، جسے ایوان کی اکثریت نے سراہا۔
ترمیمی بل کی منظوری کے بعد صوبے کے سرکاری کالجوں میں خدمات انجام دینے والے ایڈہاک لیکچررز کے دیرینہ مسائل کا حل ممکن ہو گیا ہے۔
پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، ایک کروڑ افراد کیلئے 47 ارب روپے کا نگہبان پیکج منظور
بل کے تحت مجموعی طور پر 112 مرد اور 96 خواتین لیکچررز کومستقل حیثیت دے دی گئی، جس سے تدریسی عملے میں اطمینان اوراستحکام پیدا ہوگا۔
اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی نے بل کی منظوری کواعلیٰ تعلیم کے شعبے کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف لیکچررزکا معاشی اور پیشہ ورانہ تحفظ یقینی بنایا جائے گا بلکہ تعلیمی اداروں میں تدریسی معیار کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
