جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان(Molana Fazal ur Rehman) نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام ماضی میں ناکام رہا،اور آئندہ بھی نہیں چل سکتا،انتخابات شفاف ہوں تو عوامی مینڈیٹ کی عزت ہوگی۔
رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر صوبوں کی تقسیم کی جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن سیاسی بنیاد پر ایسا اقدام انتشار کو جنم دے گا ۔
حکمرانوں کو مغرب کی تقلید کے بجائے دین اسلام کی پیروی کرنی چاہیے، مولانا فضل الرحمان
انہوں نے کہا کہ صدارتی نظام اس ملک میں پہلے بھی ناکام ہو چکا ہے، پاکستان کا مستقبل صرف پارلیمانی نظام سے جڑا ہے ۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مزید کہا کہ 2018 اور 2024 کے انتخابات میں عوامی رائے کا احترام نہیں کیا گیا، اور اگر الیکشن میرٹ پر ہوتے تو آج ملک مہنگائی اور استحصال کا شکار نہ ہوتا۔
مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کو سیاست میں مثبت قدم قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ہر جماعت کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے، لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر۔
مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ
مدارس کی رجسٹریشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر آئین سے کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے علما کو اعزازیہ دینے کے اعلان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ عمل علماء کی توہین ہے، شریعت میں کسی کو استثنیٰ حاصل نہیں، احتساب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
