سکھر: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو مقبولیت حاصل کرنے کے لیے مغرب کی تقلید کے بجائے دین اسلام کی پیروی کرنی چاہیے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب اسلام کے علوم سے خوفزدہ ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے حکمران بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا جسے خطرہ سمجھتا ہے۔ ہمارے حکمران بھی بلا سوچے سمجھے اسی کو خطرہ قرار دے دیتے ہیں۔ صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر شریعت کو مورد الزام ٹھہرانا دراصل کھلی اسلام دشمنی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شریعت کے خلاف نفرت انگیز بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اور قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی آئین پاکستان سے بغاوت کے مترادف ہے۔ کیونکہ پاکستان کے آئین میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے نہ کہ اقوام متحدہ یا کسی اور عالمی ادارے کی۔
انہوں نے کہا کہ غیر اسلامی قانون سازی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فیصلوں سے انحراف ہے۔ ہم نے نہ کبھی آزادی پر سودا کیا ہے اور نہ ہی دین پر کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق وعدوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔
سربراہ جے یو آئی نے وفاقی شرعی عدالت کو کمزور کرنے کو آئینی وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اور کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو ایوان میں پیش تک نہیں کیا گیا جو افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری کا عمل بہترین قومی مفاد میں مکمل کیا، وزیر اعظم
سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ اسلام کے خلاف کسی بھی کردار یا اقدام کی کھل کر مخالفت جاری رکھی جائے گی۔ مدارس بھی قائم رہیں گے اور ہماری جدوجہد بھی جاری رہے گی۔

