بنگلا دیش معروف طالب علم اور نوجوان سیاسی رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں شدید بدامنی پھیل گئی، جس کے باعث عام انتخابات سے قبل حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شریف عثمان ہادی، جو انقلابی منچا پلیٹ فارم کے ترجمان اور عام انتخابات کے امیدوار تھے، گزشتہ جمعے ڈھاکا میں انتخابی مہم کے آغاز کے دوران نقاب پوش حملہ آوروں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں پہلے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا جہاں وہ چھ روز تک لائف سپورٹ پر رہنے کے بعد جمعرات کو دم توڑ گئے۔
Live Visuals 🚨
Protests erupt across Dhaka after the death of student leader Sharif Osman Hadi.
Massive crowds gather at Shahbagh as Inqilab Manch and youth groups mourn. Awami League office vandalised and set on fire in Rajshahi.
Video 📷#India #Bangladesh #Visa #Hindu pic.twitter.com/zzt4wOsYCX
— Globally Pop (@GloballyPop) December 18, 2025
ہادی کی موت کے بعد ڈھاکا سمیت کئی شہروں میں احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مشتعل مظاہرین کو ملک کے بڑے اخبارات پروتھوم الو اور ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ڈیلی اسٹار کی عمارت میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا، جس پر فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
احتجاج کے دوران ہادی کے نام پر جذباتی نعرے لگائے گئے اور مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ صورتحال کے پیش نظر حساس علاقوں میں اضافی پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
بنگلا دیش اس وقت نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کے زیرِ انتظام ہے، جو اگست 2024 میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے بعد اقتدار میں آئی تھی۔ حکومت کو اصلاحات میں تاخیر اور فروری 12 کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل مختلف حلقوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔
قوم سے خطاب میں محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کو ملکی جمہوری عمل کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
عبوری حکومت نے ہادی کے احترام میں ہفتے کو یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، قومی پرچم سرنگوں رہیں گے اور ملک بھر میں خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
بدامنی کے دوران بنگلا دیش کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمن کے آبائی گھر کو ایک بار پھر نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ ڈھاکا میں ثقافتی ادارے چھایانٹ اور راجشاہی میں عوامی لیگ کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ چٹاگانگ میں بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمیشن پر حملہ کیا گیا اور سابق وزیر تعلیم کے گھر کو آگ لگا دی گئی۔
یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں اور حالیہ دنوں میں بھارت مخالف مظاہروں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
