سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کی ’ایسی کی تیسی‘ والی ٹویٹ دراصل پی ٹی آئی کیلئے تھی، ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگئی۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں پی ٹی آئی فوج پر حملہ آورنظرآئی جبکہ اس سے قبل وہی جماعت جنرل باجوہ کو ’’جمہوریت کا بادشاہ‘‘ کہتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا دعویٰ تھا کہ ’’فوج آوازیں ٹیپ کرسکتی ہے، کمرے کی ویڈیو بنا سکتی ہے اور یہ بیانیہ براہِ راست عمران خان کا تھا۔
تمام ترامیم نواز شریف کی مشاورت سے ہوئیں، چیف آف ڈیفنس فورسز نوٹیفکیشن پر کوئی اختلاف نہیں، رانا ثنا
سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان تسبیح لے کرآئی ایس پی آرسے بھی آگے بڑھ کرفوج کا سبق پڑھاتے رہے، پھراچانک ان کا رویہ بدل گیا اورمعاملہ جھگڑے تک جا پہنچا۔
واوڈا نے الزام عائد کیا کہ آج کے ’’فیلڈ مارشل‘‘ کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے محض اس لیے ہٹایا گیا کہ ’’بیگم کی بات نہ بتاؤ، چوری چکاری ہونے دو‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں ارشد شریف کے قتل کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی اورمعاملات تشدد تک جا پہنچے، یہاں تک کہ ’’اُنہی کے لوگ اُن پرگولیاں چلا دیتے ہیں‘‘۔

