وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی (Muhammad Sohail Afridi)نے این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ میں شرکت کا اعلان کردیا ہے ۔
سہیل آفریدی نے بتایا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کےاجلاس میں فیصلہ ہوا کہ این ایف سی میٹنگ میں شرکت کرینگے،قبائلی اضلاع کو 2018 میں ضم کیا گیا لیکن فنڈز نہیں دئیےگئے۔
سہیل آفریدی کا 7 دسمبر کو جلسہ کرنے کا اعلان
این ایف سی ایوارڈ میں2018 سے 2025 تک خیبرپختونخوا کا حصہ نہیں دیاجارہا،یہ میرا نہیں صوبے کا حق ہے۔تمام مکاتب فکر کا حق بنتا ہے کہ این ایف سی پر بات کریں۔
وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق 11ویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا ابتدائی اجلاس چار دسمبر 2025کو منعقد ہوگا،چاروں صوبے پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ اپنی مالی صورت حال اور بجٹ ضروریات پر بریفنگ دیں گے ۔
این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟
این ایف سی ایوارڈ پاکستان کا وہ آئینی و مالیاتی میکانزم ہے، جس کے ذریعے وفاق اور چاروں صوبوں کے درمیان آمدنی اور وسائل کو تقسیم کیا جاتا ہے۔
سہیل آفریدی کے صوبے سے امتیازی سلوک کے دعویٰ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، طارق فضل چودھری
اس کا آغاز سال 1974 میں اس وقت ہوا جب آئین پاکستان کے آرٹیکل 160 کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی شراکت داری کو منظم کرنے کے لیے پہلا کمیشن قائم کیا گیا۔
