نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ چند ہفتے قبل پاکستان افغانستان کے اندر کلین اپ آپریشن کے قریب تھا، مگر قطر نے مداخلت کرتے ہوئے ثالثی کی درخواست کی جس کے باعث کارروائی روک دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ قطر کی وزارتِ خارجہ مسلسل رابطے میں تھی اور یہ محسوس کر چکی تھی کہ پاکستان کارروائی کی جانب بڑھ رہا ہے، مگر افسوس کہ ثالثی کا یہ عمل کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکا۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان نے 4 ہزار سے زائد فوجی شہادتیں اٹھائی ہیں جبکہ 20 ہزار سے زیادہ جوان زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی نہیں چاہتا کہ کسی برادر ملک کی سرزمین میں کارروائی کرے، لیکن مسلسل دہشت گرد حملے برداشت کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان کی طرف سے یہ غلط فہمی ہے کہ پاکستان کارروائی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ نے انہیں فون کرکے تجویز دی کہ پاکستان، قطر، ترکیہ، ایران اور دیگر ممالک مل کر افغانستان کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں۔
غزہ میں فوج بھیجنے کو تیار
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں شامل ہونے پر اصولی طور پر تیار ہے، مگر حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ذمہ داری فلسطینی انتظامیہ اور اس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے، اور پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک اس کردار میں شامل نہیں ہوں گے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان آئندہ کسی بھی اقدام سے قبل فورس کے مینڈیٹ، ٹرمز آف ریفرنس اور کردار کی مکمل وضاحت چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ان نکات پر عالمی سطح پر اتفاق نہیں ہوتا، پاکستان کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا نے بھی مجوزہ فورس کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں جس کے باعث مزید مشاورت ضروری ہے۔
اسحاق ڈار نے روس، بحرین اور یورپی یونین کے اپنے حالیہ دوروں سے متعلق بھی آگاہ کیا اور کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف تسلیم کیا گیا ہے کہ افغانستان میں امن پورے خطے کے لیے ناگزیر ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ماسکو اجلاس، ایس سی او کانفرنس اور نیٹو حکام سے ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، توانائی کے منصوبوں اور معاشی تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
وزیرِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں دہشت گردی کے خلاف ایک وسیع عالمی تعاون سامنے آئے گا، تاہم ضروری ہے کہ خطہ سب سے پہلے اپنے داخلی امن پر توجہ دے۔
