اسلام آباد، وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں سول ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹس کے لیے ایک ہفتے کی تربیتی پروگرام مکمل ہو گیا،سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ مسلسل سیکھنے سے عدالتی افسران کی صلاحیتیں بہتر ہوتی ہیں اور نقطہ نظر وسیع ہوتا ہے۔
انہوں نے نوجوان ججز کو ہدایت دی کہ وہ ہر دن علم میں اضافہ کریں اورہرکیس سے کچھ نہ کچھ سیکھیں، انہوں نے زور دیا کہ ججز کو دلیرانہ فیصلے کرنے چاہئیں اوردباؤ، تعصب یا ذاتی مفاد سے بالاتررہنا چاہیے۔
شہباز شریف کے ہتک عزت کیس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی بطور گواہ پیش
انہوں نےکہا کہ کوئی جج غلطیوں کوجوازنہ بنائے اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے کھڑا ہو جبکہ عدلیہ میں اخلاقی قوت اوراصولی پختگی ناگزیر ہیں، ڈی جی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نے کہا کہ امن اور ترقی انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔
اختتامی تقریب میں 27 عدالتی افسران میں اسناد تقسیم کی گئیں اور تقریب کے آخر میں شرکا اور مہمان خصوصی کا گروپ فوٹو بھی لیا گیا۔
اس تربیتی پروگرام کا مقصد عدالتی افسران کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو فروغ دینا اورانہیں قانونی، اخلاقی اور اصولی بصیرت سے لیس کرنا تھا تاکہ وہ عوامی خدمت میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔
