پنجاب نے پہلی بار 120 ارب روپے کی خطیر بچت کا سنگ میل عبور کر لیا۔
وزیراعلی ٰ پنجاب کی زیر صدارت صوبے کے تمام محکموں کی کارکردگی سے متعلق اجلاس ہوا، دوران بریفنگ بتایا گیا کہ پنجاب میں 20 ہزار سڑکیں بنیں گی اور 50 ہزار خاندانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
پنجاب حکومت نے محنت کشوں کیلئے میرج اور ڈیتھ گرانٹ میں اضافہ کردیا
پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 30ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر ومرمت ہوگی،پنجاب میں 100 سال تک چلنے والی خصوصی پلاسٹک سیوریج لائن کا تاریخی منصوبہ شروع کیا گیا ہے ۔صوبے میں ماڈل ویلج میں ڈرین، پینے کا صاف پانی، پارکس اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں اپنی چھت اپنا گھر پروگرام سے ایک لاکھ 15 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر شروع ہے،پنجاب کےساڑھے 5ہزار واٹر فلٹریشن پلانٹ مکمل فعال اور مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے،صوبے بھر میں ساڑھے4 ہزار نئے واٹرفلٹریشن پلانٹ قائم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں واسا، پی ایچ اے اور دیگر شہری خدمات کیلئے ایک ہی ہیلپ لائن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، پنجاب کے 21شہروں میں اپنی زمین اپنا گھر کی پہلی قرعہ اندازی جلد کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ۔
آسان کاروبار پروگرام کے تحت نئے کاروبار کیلئے 40فیصد قرضے دیئے جائیں گے،پنجاب بھر میں بیوہ اور بے سہارا خواتین کو 10ہزار مویشی فراہم کرنے کا ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبائی وزرا اور انتظامیہ کے تعاون کے بغیر اہداف کا حصول ناممکن تھا، برازیل کوپ30میں پاکستانی انکلیوژر میں حکومت پنجاب کے اقدامات کو سراہا گیا۔
ماضی میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے ذریعے لوٹ مار کا بازار گرم تھا،انڈسٹری لگانے کیلئے 2،2سال کاانتظار کیوں؟ فوری فیصلہ ہونا چاہیے،ماحولیاتی معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے انڈسٹری لگانے کی اجازت دی جائے۔
