وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ امن تب ہو گا جب دہشتگردی ختم ہو گی، امن بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں سے نہیں آئے گا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان خراب تعلقات سے سب سے پہلے ہم متاثر ہو رہے ہیں۔ پاک افغان مذاکرات میں ہمیں شامل کرنا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا مرکزی اسٹیک ہولڈر ہے لیکن افغانستان سے مذاکرات پر مشاورت نہیں کی گئی ، سہیل آفریدی
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ،ضم اضلاع کیلئے وفاق سے فنڈز نہیں مل رہے، ہمیں انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے رقم چاہیئے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی کے ذمے ہمارے بقایا جات ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ ہمیں ایسی پالیسی اپنانا ہو گی کہ دہشتگردی مستقل طور پر ختم ہو۔
خیبر پختونخوا امن جرگہ – وزیر اعلیٰ @SohailAfridiISF کی صوبائی اسمبلی آمد۔ @KP_Police1 کے دستے نے سلامی پیش کی.#KPAmanJirga pic.twitter.com/semuq5VTQR
— Chief Minister KP (@KPChiefMinister) November 12, 2025
اس موقع پر اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ ہماری فوج دنیا کی سب سے بہادر فورس ہے اور پولیس بھی فرنٹ لائن پر موجود ہے، لیکن اس کے باوجود صوبہ امن سے محروم ہے۔
ملک میں موجودہ نظام عملاً آئینی ہے اور نہ قانونی، اسد قیصر
اپنے خطاب میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ امن کے لیے سب کو ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا کیونکہ امن سیاست سے بالاتر ہے۔
امن جرگے میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی کے رہنما بھی شریک ہیں۔
