27ویں آئینی ترمیم، اصلاحات یا ریاست کی ازسرِنو تشکیل؟

27th Amendment

اسلام آباد، پاکستان کی سیاست ایک بار پھر آئینی بحث کے گرد گھومنے لگی ہے۔

سینیٹ میں ہنگامہ آرائی، ارکان کے مبینہ اغوا اور عجلت میں کی گئی ووٹنگ کے مناظر کے بعد اب سامنے آیا ہے ملک کا نیا آئینی تجربہ، 27ویں آئینی ترمیم۔

حکومت کے حامی اسے عدالتی اصلاحات اورآئینی وضاحت کی جانب ایک دیرینہ قدم قرار دیتے ہیں، جب کہ ناقدین اسے ریاستی ڈھانچے میں بتدریج ہونے والی مرکزی تبدیلیوں کا تسلسل سمجھتے ہیں۔

ترمیم کا پس منظر

27ویں آئینی ترمیم کی جڑیں 26ویں ترمیم میں پیوست ہیں، جس نے عدلیہ کے دائرہ اختیار اور انتظامی اثر و رسوخ کو ازسرِنو متعین کیا۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور کے چند متنازع فیصلے، جیسے بیٹ کے انتخابی نشان اور خواتین کی مخصوص نشستوں کے مقدمات، اس ترمیم کی بنیاد بنے۔

26ویں ترمیم نے انتظامیہ کے عدلیہ پر اثر میں اضافہ کیا، اور الیکشن کمیشن کے چیئرمین کو مدت پوری ہونے کے باوجود برقرار رکھنے کا راستہ کھول دیا۔ ناقدین نے اسے “انتخابی انشورنس پالیسی” کہا جو 2024 کے انتخابات پر لگے انتظامی اثرات کے الزامات کے تناظر میں کی گئی۔

27ویں ترمیم میں کیا نیا ہے

نئی ترمیم کے تحت ایک آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو آئینی نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ کرے گی۔ بظاہر مقصد عدالتِ عظمیٰ پر بوجھ کم کرنا ہے، لیکن مبصرین کے مطابق یہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو محدود کرنے کا نیا طریقہ ہے۔

ترمیم میں فوجی کمانڈ چین کی آئینی توثیق اور صحت، تعلیم، آبادی جیسے اختیارات کو وفاق کے ماتحت دوبارہ لانے کی شقیں شامل ہیں — جو 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے دائرے میں چلی گئی تھیں۔ اس سے صوبائی خودمختاری پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، خصوصاً این ایف سی ایوارڈ میں ممکنہ تبدیلی کے خدشات کے باعث۔

طاقت کا توازن یا اس کا خاتمہ؟

26ویں ترمیم کے بعد ججز کی تعیناتی اور تبادلے کا اختیار مزید انتظامی صوابدید بن گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے ایک جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیے جانے کا فیصلہ، جسے سیاسی قرار دیا گیا، اب 27ویں ترمیم کے ذریعے آئینی حیثیت اختیار کر لے گا۔

عدلیہ میں اختلافی آوازیں

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے حالیہ سماعت میں کہا، “اگر آئینی بنچ ہی آئینی ہو گیا تو ہم کیا رہ گئے؟ غیر آئینی؟” ان کے یہ الفاظ اعلیٰ عدلیہ کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں — کہ آیا یہ اصلاحات عدلیہ کو آزاد بنا رہی ہیں یا سیاسی طور پر منظم کر رہی ہیں۔

پارلیمان کی اخلاقی حیثیت پر سوال

پارلیمان میں دو تہائی اکثریت سے منظوری اب بظاہر آسان ہو چکی ہے، مگر عوامی سطح پر انتخابات کی شفافیت پر سوالات باقی ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ایک ایسی اسمبلی جو خود متنازع انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی ہو، کیا اسے آئین میں بنیادی تبدیلیوں کا حق حاصل ہے؟

ہر نئی ترمیم آئین کے متن کو نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بدل دیتی ہے۔ جب آئین طاقتوروں کی سہولت بن جائے، تو اس کی اخلاقی حیثیت خود بخود کمزور ہو جاتی ہے۔

عام شہری کہاں کھڑا ہے؟

27ویں ترمیم “کارکردگی” اور “شفافیت” کے نام پر پیش کی جا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کارکردگی کس کے لیے؟ کیا یہ ان لاکھوں شہریوں کے لیے ہے جو برسوں سے انصاف کے منتظر ہیں، یا ان کے لیے جن کے مقدمات روزانہ قومی سرخیوں میں ہوتے ہیں؟

پاکستان نے پچاس برسوں میں پچیس سے زائد آئینی ترامیم کیں، مگر انصاف آج بھی عام آدمی سے کوسوں دور ہے۔ اگر 27ویں ترمیم بھی ماضی کی طرح صرف طاقت کے توازن کو ایڈجسٹ کرے گی، تویہ اصلاح نہیں، اختیار کی نئی تقسیم کہلائے گی، وہ بھی عوام کے بغیر، عوام کے نام پر۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp