پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کا اتحاد خطے میں امن، خودمختاری اور حق خود ارادیت کیلئے اہم مثال ہے، وزیراعظم


باکو، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور کاراباخ میں آذربائیجان کی کامیابی نہ صرف تاریخی اہمیت کی حامل ہے بلکہ خود مختاری اور حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کرنے والی اقوام کے لیے مشعل راہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ  یہ فتح غزہ کے بہادر عوام، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور عالمی سطح پر منصفانہ موقف اپنانے والی اقوام کے لیے ایک اہم سبق ہے،معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی جنگی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا، بھارتی جارحیت کے دوران ترکیہ اور آذربائیجان نے پاکستان کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر وہ ترکیہ اور قطرکے مشکور ہیں اور پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر کسی کو اپنی خود مختاری اورعلاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے یوم فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام کی طرف سے آذربائیجان کے عوام اور حکومت کو 44 روزہ جنگ میں فتح کے تاریخی دن کی سالگرہ پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان تینوں برادر ممالک کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور انہوں نے متعدد بار اپنی دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا ہے، بھارت کے ساتھ چار روزہ جنگ میں آذربائیجان کی افواج کی شمولیت اور پاکستان کے فوجی دستوں کی موجودگی نے اس اتحاد کو مزید مضبوط کیا۔

وزیراعظم نے آذربائیجان کی افواج کی بہادری اور صدرالہام علیوف کی قیادت میں کاراباخ کی آزادی پر بھی زور دیا اورکہا کہ پاکستان ہمیشہ آذربائیجان کے ساتھ کھڑا رہے گا، آزادی کے لیے جدوجہد، عزم اور حوصلہ ضروری ہے، اور کاراباخ کی فتح ان اقدار کا مظہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج نے بھارت کو عبرتناک شکست دی اور ایئر چیف مارشل ظہیر بابرسدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے آذربائیجان کے منصفانہ موقف کی ہمیشہ حمایت کی اور بھارتی جارحیت کے دوران ترکیہ اور آذربائیجان کی یکجہتی کی قدر کی، حقیقی فتح جنگی میدان میں ہی نہیں بلکہ امن اور ہم آہنگی کے پل تعمیر کرنے میں بھی ہے۔

آذربائیجان اورآرمینیا کے درمیان امن کے لیے صدر الہام علیوف کی کاوشیں اور صدرڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو بھی سراہا، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی اور جنوبی ایشیا میں امن قائم کرنے میں یہ اقدامات اہم ثابت ہوئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یوم فتح کی تقریب میں شرکت میرے لیے باعث افتخار ہے۔ پریڈ میں پاک فوج کے دستے اور جے ایف 17 تھنڈر کی شرکت نے موقع کی اہمیت کو بڑھا دیا۔

پریڈ میں آذربائیجان کے جنگی سازوسامان کی نمائش اورجنگی طیاروں کی فلائی پاسٹ نے مہمانوں کو متاثر کیا، آذربائیجان کے صدرالہام علیوف نے تقریب میں شریک تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان اور ترکیہ کی حمایت کو سراہا۔

آذربائیجان علاقائی امن اور ترقی کے لیے پرعزم ہے، اس کی افواج نے سلامتی اور خود مختاری کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اورملک کی معیشت و مسلح افواج کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، ماضی کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہوئے ہمیں مستقبل پر بھی نظررکھنی ہے۔

ترکیہ کے صدررجب طیب اردوان کی بصیرت افروز قیادت نے ترکیہ کو ایک جدید اورعالمی سطح پر ترقی پسند ملک بنایا، جس کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔

انہوں نے یوم فتح کی تقریب میں اس بات پر زور دیا کہ تینوں ممالک  پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان، وقت کے ساتھ مزید مضبوط تعلقات اوراتحاد قائم رکھیں گے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ممکن بنایا جا سکے۔


متعلقہ خبریں
WhatsApp