چین نے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 15 امریکی اداروں پر عائد برآمدی کنٹرول کی پابندیاں ختم کرنے اور مزید 16 اداروں کے لیے یہ اقدامات ایک سال کے لیے معطل رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ 10 نومبر سے نافذ العمل ہوگا، جس کا اعلان چین کی وزارتِ تجارت نے اپنے تازہ بیان میں کیا ہے۔وزارت کے مطابق یہ اقدام موجودہ عالمی اقتصادی صورتحال اور چین و امریکا کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
چینی وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی حمایت کا اعلان
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد “بین الاقوامی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام” کو یقینی بنانا اور “تجارتی ماحول میں غیر ضروری رکاوٹوں کو کم کرنا” ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ کا یہ فیصلہ حالیہ مہینوں میں امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
امریکا جب تک اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا، مذاکرات نہیں کریں گے، ایران
واشنگٹن کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد برآمدی پابندیوں کے جواب میں چین نے بھی متعدد امریکی اداروں کے خلاف اقدامات کیے تھے۔
اب جب کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ تعلقات میں بہتری اور کاروباری تعاون کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔
چینی وزارتِ تجارت نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا بھی اسی جذبے کے ساتھ منصفانہ اور غیر امتیازی بنیادوں پر چینی کمپنیوں کے ساتھ تجارت کے لیے ماحول بہتر بنائے گا۔
