اسرائیلی فوج کا غزہ کی امداد کے لیے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے اور ہائی رسک زون میں داخل ہونے پر اسرائیلی بحری جہازوں نے بیڑے کی دو مرکزی کشتیوں کا گھیراؤ کرکے کمیونیکیشن آلات کو جام کر دیا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل بیڑے کو روکنے کے لیے بعض کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔
ٹرمپ منصوبے کے کئی نکات کی وضاحت ضروری ، اسرائیلی افواج کے انخلاء پر بات ہونی چاہئے ، قطری وزیراعظم
الجزیرہ کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا نے کہا ہے کہ اس کا اسرائیلی بحریہ کے جہازوں سے ’پہلا سامنا‘ ہوا، جنہوں نے قافلے کی مرکزی کشتی کو تقریباً 6 منٹ تک گھیرے میں لیے رکھا اور اس دوران اس کے مواصلاتی نظام کو دور سے غیر فعال کر دیا۔
دوسری جانب اٹلی کے جہاز پیچھے ہٹانے کے فیصلے پر اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کو مزید مظالم کھلا چھوڑنے کے مترادف ہے۔
ٹرمپ سے فلسطینی ریاست پر اتفاق نہیں کیا ، معاہدے میں بھی نہیں لکھا ، اسرائیلی وزیراعظم
علاوہ ازیں کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے خبردار کیا ہے کہ پُرامن مشن پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرم تصور کیا جائے گا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل امدادی قافلہ ہے جس پر 500 سے زیادہ افراد سوار ہیں جن میں پارلیمنٹیرینز، وکلا اور سویڈش ماحولیاتی مہم جوئی کرنے والی گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
