برطانیہ نے روس پرمزید دباؤ بڑھاتے ہوئے ایسی 30 کمپنیوں اورافراد پر پابندیاں عائد کردی ہیں جو روس کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
ان کمپنیوں پرالزام ہے کہ وہ روس کو ایسے پرزہ جات اورسامان فراہم کرتی رہی ہیں جو میزائل اوردیگر ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کمپنیوں کا تعلق مختلف ممالک سے ہے اور یہ روس کو الیکٹرانکس، کیمیکلز اور دھماکہ خیز مواد جیسے حساس آلات فراہم کررہی تھیں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کی دفاعی صلاحیت کو محدود کرنے اور اس کی جنگی مشینری کو کمزور بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق ان پابندیوں کے بعد مذکورہ کمپنیوں اورافراد کے اثاثے منجمد کردیئے جائیں گے اوران کے ساتھ کسی بھی قسم کی کاروباری سرگرمی برطانیہ یا اس کے اتحادی ممالک میں نہیں ہوسکے گی۔
واضح رہے کہ برطانیہ اورمغربی اتحادی ممالک اس سے قبل بھی روسی توانائی، مالیاتی اداروں اوردفاعی صنعت پر متعدد پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
امریکا کا چارلی کرک کے قاتل کی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر انعام دینے کا اعلان
تازہ ترین فیصلہ اس سلسلے کی ایک اورکڑی ہے جس کا مقصد روس کو بین الاقوامی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بنانا ہے۔
