سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم فوج کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے، ہم مذاکرات کریں گے۔
عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سے بات کرنے کیلئے ہم نے محمود اچکزئی کو مینڈیٹ دیا تھا،دوسری طرف سے کوئی نام سامنے آتا تو ہم بات کرتے ، محمود خان اچکزئی پر ہمارا پورا بھروسہ ہے۔
تحریک عدم اعتماد سمیت کسی معاملے پر پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی
چند دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد سمیت کسی بھی معاملے پر پیپلزپارٹی سے مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔
ان کا کہنا تھاکہ تحریک عدم اعتماد سمیت کسی معاملے پرپیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کیلئے پیپلزپارٹی سے تب بات کروں، اگر مجھے اقتدار میں آنا ہو۔
عمران خان کی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد جنرل باجوہ کےکہنے پرلائی گئی، مولانا فضل الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کوئی فرق نہیں یہ ایک ہی ہیں، دونوں فارم 47 کی پیداوار ہیں۔
