فلاحی اسپتالوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

Hospital

فوٹو: فائل


اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے خیراتی اور فلاحی اسپتالوں پر سیلز ٹیکس کی حمایت کر دی۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں کمیٹی نے کہا کہ خیراتی اور فلاحی اسپتالوں پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سرکاری اسپتال سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ملک کے بڑے اور مہنگے اسپتال ٹرسٹ پر قائم ہیں جبکہ پرائیویٹ اسپتال سیلز ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ ٹرسٹ پر قائم اسپتال کی ٹیکس چھوٹ ختم کی جارہی ہے کیونکہ بڑے بڑے پرائیویٹ اسپتال اس میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ادویات کی قیمتیں فارماسوٹیکل کمپنیز کو مقرر کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹرسٹ کے نام پر بنے اسپتالوں نے ڈاکٹرز بھی بٹھائے ہوئے ہیں جو بھاری فیس لیتے ہیں۔ ٹرسٹ کے نام پر لیب مہنگی فیس چارج کرتے ہیں۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایک ٹرسٹی اسپتال نے 20 لاکھ کا بل ادا کرنے تک میت ورثا کو نہیں دی۔ اگر سرکار ٹیکس کی چھوٹ دیتی رہی ہے تو ان کو اسپتالوں کا آڈٹ بھی کرے۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں