آئی ایم ایف کا پاکستان کو رعایت دینے سے انکار

آئی ایم ایف (IMF )

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے درمیان اگلے قرض پروگرام کے حوالے سے متعدد تجاویز پر اختلاف برقرار ہیں۔

آئی ایم ایف کا سابق فاٹا کے لئے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر اصرار ہے جبکہ وزارت خزانہ کا مقف ہے کہ سابق فاٹا کی ترقی کیلئے ایک سال کی ٹیکس چھوٹ ضروری ہے، سابق فاٹا کو درآمدی مشینری، انکم ٹیکس پر چھوٹ دینا ضروری ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کا ایکسپورٹرز پر انکم ٹیکس بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے جس کے تحت ایکسپورٹرز پر عائد انکم ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے گی۔

بھارت کے 51 فیصد، پاکستان کے 49 فیصد جیتنے کے چانسز ہیں، ثقلین مشتاق

اس وقت ایکسپورٹرز پر انکم ٹیکس کی شرح ایک فیصد عائد ہے تاہم اب اتفاق کیا گیا ہے کہ ایکسپورٹرز سے اخراجات و آمدنی کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس ریٹ پر پاکستان اور آئی ایم ایف میں اتفاق نہ ہو سکا جبکہ زراعت اور ہیلتھ سیکٹر پر 18 فیصد سیلز ٹیکس پر بھی فریقین میں عدم اتفاق ہے۔

پاکستان کی طرف سے ایک لاکھ روپے ماہانہ پینشنز پر ٹیکس لگانے پر بھی آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ صوبائی اور وفاقی ٹیکسز میں ہم آہنگی کیلئے قومی ٹیکس اتھارٹی قائم کرنے پر بات چیت جاری ہے۔

تین ماہ ملکی سیاست کیلئے اہم، ہو سکتا ہےشہباز شریف قومی اسمبلی تحلیل کردیں، منظور وسان

ریئل اسٹیٹ کے شعبے پر ٹیکس لگانے پر پیشرفت جاری ہے اور آئی ایم ایف نے اگلے قرض پروگرام کی شرائط کو بجٹ کا حصہ بناکر پارلیمنٹ سے منظوری کی شرط بھی عائد کر رکھی ہے، آئی ایم ایف اپنے مطالبات میں کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔


متعلقہ خبریں