وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائیگا، تیاریاں مکمل

وفاقی بجٹ

وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25ء کا بجٹ 12 جون کو پیش کرنے کیلئے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔

موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق این ای سی کا اجلاس 9جون کو ہوگا، اقتصادی سروے 11 جون کو پیش کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات میں ایک ماہ کی کمی

قبل ازیں بجٹ 10جون کو پیش کیے جانے کا امکان تھا لیکن اب تصدیق ہو گئی ہے کہ بجٹ 10 جون کو پیش نہیں ہو سکتا اور وزیراعظم کے دورہ چین کو دیکھتے ہوئے اس کی تاریخ میں 12 جون کیلئے توسیع کی گئی ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر کوٹیکس نیٹ میں لانے ،جائیداد بیچنے ،خریدنے والے فائلرز اور نان فائلرز دونوں کےلیے ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کی مختلف تجاویزپر غور کر رہی ہے۔

جون ، جولائی اور اگست کیلئے بجلی مہنگی کردی گئی

موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی عرصے سے قطع نظر گین ٹیکس لینے پر غور کیاجارہا ہے۔ ذاتی غیر منقولہ جائیداد کی تعریف تبدیل کرنے پر بھی غور جا ری ہے، مختلف شہروں میں رئیل اسٹیٹ کی قدر کے گوشواروں میں بھی اضافہ کیاجاسکتا ہے۔

5کروڑ تک کی مالیت کی جائیدادوں پر تین فیصد، 7 کروڑ تک 4 فیصد اور 10 کروڑ کی جائیدادوں پر 7 فیصد ٹیکس جائیداد بیچنے والوں سے لیاجائےگا۔ کیپٹل گین کو انکم میں شامل کرنا بھی زیر غور ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں اور ناگہانی قدرتی آفات سے بچاؤکیلئے ہمہ وقت نگرانی کی جار ہی، چیئرمین این ڈی ایم اے

آئی ایم ایف کی جانب سے پروگریسو ٹیکسیشن کے تقاضوں کے تحت جائیدادوں کے لین دین پر 5کروڑ تک کی مالیت کی جائیدادوں پر تین فیصد، 7 کروڑ تک کی مالیت کی جائیدادوں پر 4 فیصد اور 10 کروڑ کی جائیدادوں پر 7 فیصد ٹیکس بیچنے والوں سے لیاجائےگا ۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں