ریاست کسی بندے کو اٹھا لے تو لوگ کہاں جائیں ؟ پشاور ہائیکورٹ

پشاور ہائیکورٹ

پشاور ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے  کہ ریاست لوگوں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے ،اگر اسٹیٹ کسی بندے کو اٹھا لے تو بندے کیا کریں اور کہاں جائیں؟۔

پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے حیات آباد سے 4 بھائیوں کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت  کی، عدالت نے پولیس کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کی پیشرفت رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

قانون کے مطابق فیصلے کئے مگر سیاسی جماعت سے منسوب کیا گیا ، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

جسٹس اعجاز انور نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسٹیٹ اگر ایسا کام شروع کرے تو لوگ پھر کہاں جائیں؟ کاروباری افراد کے اغوا کے ذمہ دار سی سی پی اور ایس ایس پی ہیں۔ اغو کار صرف سہولت کار ہیں، یہ معاملہ انکا گھریلو لگتا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیٹ نے پولیس کمیٹی بنائی ہے اور بھرپور تحقیق کر رہی ہے، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اے جی صاحب کبھی ایسا ہوا ہے کہ کمیٹی بنی ہو اور مسائل کا حل نکلا ہو۔ جب تک ایگزیکٹو آئین پرعمل نہیں کرے گا تو اس ملک میں اسی طرح ہو گا۔ ایجنسیز کو آئین کے اندر کام کرنا ہو گا۔

ہر لاپتہ شخص اپنی فیملی کے پاس ضرور آئے گا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کاتحریری حکمنامہ

ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ معاملہ ان کا اندرونی ہے۔ بیرسٹر اویس بابر نے کہا کہ معاملے میں ان کا اپنا بھائی ملوث ہے۔ پولیس کی سرپرستی میں نقاب پوشوں نے رات 2 بجے میرے کلائنٹس کو میرے سامنے اغوا کیا۔

جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دی$ے کہ  ملک میں لوگوں تحفظ دینے میں اسٹیٹ مکمل ناکام ہو چکی۔ خیبر پختونخوا سے 98 فیصد کاروباری افراد نے کاروبار چھوڑ دیا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت 10 جون تک ملتوی کر دی۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں