لڑکے اور لڑکی کیلئے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر

lahore high court

لاہور ہائیکورٹ نے لڑکے اور لڑکی  کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرتے ہوئے شادی کی عمر میں فرق کی شق کو کالعدم قرار دے دیا۔

ایرانی صدر22 اپریل کو پاکستان آئیں گے

عدالت نے حکم دیا کہ1929 ء کے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے قانون میں15 روز میں تصحیح اور اپ ڈیٹ کرکے قانون پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ سماجی اور جسمانی عوامل کی بنیاد پر چائلڈ میرج کے خلاف موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،شادی کے قانون کا مقصد سماجی ، اقتصادی اور تعلیمی عوامل کے ساتھ جڑنا چاہیے۔

بجلی قیمت میں کمی کیلئے عملی اقدامات کا حکم

بحیثیت قوم آبادی کے آد ھے حصے کی صلاحیتوں کو کم عمری کی شادی اور بچوں کی پیدائش میں گنوایا نہیں جا سکتا ،آئین کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں ،کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا ہے۔

چائلڈ میرج ایکٹ 1929 ء میں لڑکے لڑکی کی عمر میں فرق امتیازی سلوک ہے،عمر کے اس فرق کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جاتا ہے،خواتین کے لئے مساوی مواقع کا مطلب ہے کہ ان کی شادی کیلئے عمر کی حد بھی مردوں کے برابر مقرر کی جائے۔

محکمہ ایکسائز نے نمبر پلیٹس کی فیس وصولی بند کردی

آئین کے آرٹیکل 35 کے تحت ریاست شادی،خاندان،ماں اور بچے کے تحفظ کی ذمہ دار ہے،آئین کے اس آرٹیکل میں بالخصوص ماں کا ذکر کیا گیا ہے،باپ کا نہیں جو اہمیت کا حامل ہے،اس پر عمل نہ کرنا سنگین امتیازی سلوک اور آئینی سکیم پر سمجھوتہ کرنے کے مترادف ہے۔

سمسٹر بہار 2024ء :دوسرے مرحلے کے داخلوں کی تاریخ میں بغیر لیٹ فیس 25اپریل تک توسیع

آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر اور تحفظ کے حق دار ہیں، جنس کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔


متعلقہ خبریں