مخصوص نشستوں سے محروم نہیں کیا جا سکتا، سنی اتحاد کونسل کا عدالت جانے کا اعلان

سپریم کورٹ

سنی اتحاد کونسل نےچیف الیکشن کمشنر سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا۔

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں سے کسی بھی جماعت کو محروم نہیں کیاجاسکتا،الیکشن کمیشن نے دوبارہ ہمارا مینڈیٹ چوری کرلیاہے۔

سنی اتحاد کونسل نےصدارتی اور سینیٹ الیکشن بھی ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دینے کی درخواست مسترد کردی

مزید بولے کہ ہماری اکثریت کو اقلیت میں بدل دیاگیاہے،الیکشن کمیشن نے غیرآئینی اور غیرقانونی فیصلہ سنایاہے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر سنی اتحاد کونسل کی درخواست مسترد کردی ہے۔

الیکشن 2024ء میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بعد مخصوص نشستوں کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر ای سی پی نے فیصلہ سنادیا اور کہا کہ وہ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے کوٹے کی مستحق نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی ترجیحاتی فہرست جمع کرانے میں 2 دن کی توسیع کی تھی۔

ای سی پی کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات سے قبل خواتین کی مخصوص نشستوں کی فہرست نہیں دی جو لازم تھی۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مخصوص نشستوں کی فہرست انتخابات سےق بل فراہم کرنا قانونی ضرورت ہے، سنی اتحاد کونسل کا بروقت مخصوص نشستوں کی فہرستیں مہیا نہ کرنا قانونی نقص ہے۔

ای سی پی کے فیصلے میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے انتخابی نشان کے باوجود آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا، پارٹی نے تصدیق کی کہ اُن کے امیدواروں نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا ہے۔


متعلقہ خبریں