پی ٹی آئی خواتین اور مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگئی

پی ٹی آئی

بلے کا نشان نہ ملنے کے بعد پی ٹی آئی کو ایک اور شدید دھچکا


پاکستان تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہ ملنے کے دورس اثرات مرتب ہوں گے ۔

پی ٹی آئی کے 3 ٹکٹ ہولڈر زگرفتار ، 2 کے گھروں پر چھاپے

پی ٹی آئی کو خواتین اور مخصوص نشستوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔ خواتین کی قومی اسمبلی میں 72 نشستیں ہیں۔ن لیگ، پیپلز پارٹی اور استحکام پارٹی نے پہلے ہی مطلوبہ تعداد سے زیادہ نام ریزرو نشستوں پر دے رکھے ہیں۔

پی ٹی آئی نے بلے کا نشان نہ ملنے پر ووٹرز تک پہنچنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا

سینیٹ کے انتخابات کا بھی نقصان ہو گا۔ پارٹی ایک پلیٹ فارم پر نہیں ہو گی۔ آزاد ارکان کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کے امید واروں کا جو مختلف نشان الاٹ ہوں گے ان کو حلقوں میں متعارف کرانا مشکل ہو گا اور 20 دن میں اپنے نشان کو حقیقت بنانا مشکل ہو جائے گا۔

76سالہ سسٹم ختم ، نیا ای رجسٹری نظام شروع

آئین کے مطابق مخصوص نشستیں صرف رجسٹرڈ پارٹیوں اور ایک انتخابی نشان پر لڑنے والی جماعتوں کو الاٹ کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ریٹرننگ افسران نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل کر لی ہے۔

قومی ادارہ صحت نے کالی کھانسی کے پھیلاؤ کے خدشات ظاہر کر دیئے

ای سی پی کی جانب سے یہاں جاری کردہ شیڈول کے مطابق ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے کی اپیلیں 16 جنوری تک جمع کرائی جا سکتی ہیں اور اپیلٹ ٹربیونل 19 جنوری تک ان کی سماعت کرے گا۔

پی ٹی آئی نے شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق کے خلاف اپنے امیدوار کھڑے کردئیے

امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 20 جنوری کو جاری کی جائے گی، کاغذات نامزدگی 22 جنوری تک واپس لیے جا سکیں گے اور حتمی امیدواروں کی فہرست 23 جنوری کو جاری کی جائے گی۔


متعلقہ خبریں