بیرسٹر گوہر خان کی عمران خان کے ساتھ انتخابی امیدواروں سے متعلق مشاورت مکمل

بیرسٹر گوہر

اسلام آباد (شہزاد پراچہ)پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ بانی پارٹی کے ساتھ انتخابی امیدواروں کے بارے میں مشاورت مکمل کرلی گئی ہے جس کا دو دن میں اعلان کردیا جائے گا۔ 

اسلام آباد میں میڈیا کے صحافیوں سے ملاقات کے دوران گوہر خان نے پلان سی کا اشارہ دیتے ہوئے کہاکہ 8فروری کو یوم احتساب بنادیں گے۔ الیکشن کمیشن کا رویہ ہمارے ساتھ منصفانہ نہیں ہے آزاد امیدواروں کی حمایت سے فلور کرسنگ اور ہارس ٹریڈنگ کو فروغ مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا پس پردہ کوئی بات چیت نہیں ہورہی ہے، مضبوط پارلیمان کے لئے سب جماعتوں سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں تاہم انتخابی اتحاد کسی سے نہیں ہوا۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے جو تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے وہ سب دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مختلف کیسز میں ہمیں سزائیں دلوائی گئیں، جو بھی کیس اٹھا لیں وہ تحریک انصاف کے خلاف ہی جاتا ہے، گملے توڑنے کے جرم میں بھی ہماری گرفتاری ہوئی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بھی پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو آئسولیٹ کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا انتخاب کے حوالے سے کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے، توہم نے بتایا کہ آپ گوگل کر کے دیکھ لیں تمام میڈیا نے رپورٹ کیا ہے.

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کہ مجھے چئیرمین شپ نہیں چاہیے آپ بلا بچائیں، الیکشن ہوئے تو ہم نے تمام آئینی اور قانونی طریقے اپنائے.

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی بندہ نہیں گیا کہ ہمیں فورم دیں دے،کوئی پینل ہمارے خلاف نہیں آیا اور ہمارے الیکشن کو کسی نے چیلنج بھی نہیں کیا، ہمارے جیسے الیکشن کبھی کسی اور جماعت نے نہیں کروائے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے رجسٹرڈ ووٹرز تقریبا 8 لاکھ 35 ہزار ہیں، ہم ایپ کے ذریعے الیکشن کرتے ہیں، پچھلے سال ہم نے دو ہزار سے زائد پولنگ ایجنٹ بذریعہ ایپ رکھے تھے۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ الیکشن کمشین نے یہ اعتراض لگایا کہ ہمارا چیف الیکشن کمشنر پارٹی کے انتخابات نہیں کروا سکتا جبکہ ہم سے کوئی جواب نہیں مانگا گیا اور سیدھا فیصلہ سنایا گیا کہ بلے کا نشان واپس لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ساری قیادت جیلوں میں ہے یا پھر چھپی ہوئی ہے، ہمارے سیکریٹری اطلاعات رئوف حسن کو اب تک عمران خان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی، یہ تمام چیزیں شفاف اور آزادانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے بلے کا نشان واپس لیا تو الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کا حکم نہیں مانا، اگر ہمارے پاس بلے کا نشان نہیں ہو گا تو ہمارے سارے امیدوار آزاد ہوں گے۔ ہم اپنی انتخابی مہم نہیں کر سکتے، ہمارے پاس تو کوئی کامن نشان نہیں ہو گا۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات میں مشاورت ہوئی ہے اور امیدواروں کے ٹکٹ کے لیے حتمی فہرست بھی بنالی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا رویہ ہمارے ساتھ منصفانہ نہیں ہے، انکا مزید کہنا تھا کہ انتخابات کے لیے کسی پارٹی کے ساتھ ابھی اتحاد نہیں ہوا، ہماری کوشش ہے کہ ہم ایک نشان پر الیکشن لڑیں، سپریم کورٹ کہتی رہی ہے کہ فلور کراسنگ اور ہارس ٹریڈنگ کو روکیں، اگر انتخابی نشان نہ ملا تو کیسے ان سب کو روکا جا سکتا ہے۔

ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وکلا اور چند صحافیوں کو بھی پارٹی کا ٹکٹ دے رہے ہیں اور چیزیں حتمی مراحل میں ہیں، تین سے چار دن میں حتمی طور پر آگاہ کردیا جائے گا، اگر ابھی الیکشن نہیں کرتے تو پھر اپریل میں سینیٹ بھی اپنی مدت پوری کر لے گا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ الیکشن وقت پر ہوں گے، یہ ہماری انڈر 19 ٹیم سے بھی گھبرائے ہوئے ہیں، ہم الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کر رہے تحریک انصاف ہر صورت میں عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔


متعلقہ خبریں