کم عمری کی شادی کے سخت سماجی ومعاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں، نیلوفر بختیار


قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن نیلوفر بختیار نے کہا ہے کہ خواتین پرتشدد کو روکنے اور کم عمری کی شادی کے معاملے پر آگاہی پیدا کرنے کی کوششوں میں میڈیا کا انتہائی اہم کردار ہے،کم عمری کی شادی کے سخت سماجی ومعاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے یہ بات گزشتہ روز سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم اور یو این ایف پی اے نے کے اشتراک سے دوسری نیشنل میڈیا فیلوشپ (این ایم ایف) کے 4 روزہ ریفریشر کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کورس کا آغاز نیشنل کمیشن برائے وقار نسواں (این سی ایس ڈبلیو)، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (سی ای جے،آئی بی اے) اسلام آباد میں ہوا۔ این ایم ایف ٹریننگ کا ایک منفرد پروگرام ہے جس کا مقصد صنفی تشدد (جی بی وی) اور کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسائل پر توجہ دلانا اور اس سے متعلق صحافیوں میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

ریفریشر کے پہلے روز این سی ایس ڈبلیو میں منعقدہ تعارفی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے نیلوفر بختیار نے کہا کہ ان مسائل پر رپورٹنگ یا تحریر کرتے ہوئے صحافیوں پر انتہائی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ متعدد رسک فیکٹر ہمارے معاشرے میں خاص طور پر تشدد یا زیادتی کا شکار فرد کی حفاظت، اس کی شناخت، عزت نفس اور سماجی حیثیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتاہے۔

دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر 80 سالہ پاکستانی شہری بیٹے کیخلاف عدالت پہنچ گیا

ان کا کہنا تھا کہ یہ تربیتی پروگرام ان کے دل کے بہت قریب ہے کیونکہ انہوں نے پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کے لئے صنفی مساوات اور مساوی حقوق کے حصول کے لئے اسے درست سمت میں ایک بروقت قدم تصور کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں بالخصوص دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادی گہری جڑیں رکھنے والا سنگین مسئلہ ہے جو ایک محفوظ اور صحت مند بچپن، معیاری تعلیم پر بچے کا حق چھین لیتا ہے اور اس کے سخت معاشی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔

نیلوفر بختیار کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ٹیم جی بی وی کے خاتمے کے لیے ہر طرح سے کوشاں ہے لیکن میڈیا کی فعال اور ذمہ دارانہ شرکت اور معاونت کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا۔

این سی ایس ڈبلیو نے پہلی بار اپنے معاونین اداروں کے ہمراہ 2022 میں صحافیوں کو حساس بنانے اور تربیت دینے کے لئے میڈیا فیلوشپ کا آغاز کیا تھا تاکہ صنفی مسائل کو اس زاویہ سے میڈیا میں رپورٹ کیا جاسکے۔

این ایم ایف کے پہلے دور میں 37 صحافیوں کو اس مخصوص موضوع پر تربیت دی گئی اور انہوں نے جی بی وی سے متعلق 2 دستاویزی فلموں، کم عمری کی شادی اور خواتین پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر 162 کہانیاں تیار کیں جو ملک بھر کے معروف میڈیا ہاؤسز سے شائع اور نشربھی ہوئیں۔

میڈیا فیلوشپ کے دوسرے دور میں پاکستان بھر سے آنے والے 40 مڈ کیرئیر صحافیوں کا ایک گروپ خصوصی تربیت حاصل کرے گا۔ جس کی تکمیل کے بعد یہ گروپ جی بی وی، لڑکیوں اور خواتین کے حقوق پر توجہ مرکوز کرنے والی 180 سے زیادہ کہانیاں تیار کرے گا۔


متعلقہ خبریں