ہم انویسٹی گیشن ٹیم کی خبر کی گونج قائمہ کمیٹی برائے توانائی تک پہنچ گئی

electricity bill

اسلام آباد( ہم انویسٹی گیشن ٹیم) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی میں ہم انویسٹی گیشن ٹیم کی خبر کی گونج پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق کمیٹی میں موجود وزارت توانائی کے حکام نے ہم انویسٹی گیشن ٹیم کی بجلی چوری سے متعلق خبر کی تصدیق کی اور کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو گزشتہ سالوں میں اربوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

2022 میں 20 اضلاع کے 3 لاکھ صارفین نے 110 ارب کی بجلی چوری کی

کمپنیوں کے مالی خساروں کی وجہ سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، حکام نے تجاویز دیں کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جائے یا انہیں صوبائی حکومتوں کے ماتحت کر دیا جائے۔

ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو موصول  دستاویزات کے مطابق  بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں مجموعی 55204 شکایات پولیس کو ایف آئی آر کی اندراج کے لئے موصول ہوئیں۔

سال 2022 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نادہندگان پر 20616 ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔ جب کہ لاہورالیکٹرک سپلائی کمپنی میں مجوعی 12718 نادہندگان میں سے 10987 پر ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔

پچھلے 14 ماہ میں 5 لاکھ 56 ہزار صارفین کی جانب سے470 ارب روپے کی بجلی چوری کرنے کا انکشاف

ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 8 لاکھ 62 ہزارنادہندگان میں سے 4280 پر ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔

فیصل آباد الیکڑک سپلائی کمپنی میں 53425 نادہندگان میں سے 3534 پر ایف آئی آر درج کرائی گئیں۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اب تک 528 نادہنگان کو ایف آئی آر کی اندراج کے بعد گرفتار کرایا۔


متعلقہ خبریں