این اے 118 لاہور میں تبدیلی کے چرچے، سنسنی خیز عوامی فیصلہ


اسلام آباد: ملک بھر میں عام انتخابات سے قبل ہی لاہور میں بھی تبدیلی کی ہوا چل پڑی۔ عام انتخابات میں مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔

قومی اسمبلی کی نشست این اے 118 کی عوام بھی عام انتخابات کا انتظار کر رہی ہے۔ این اے 118 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار حمزہ شہباز 3 بار یہاں سے مستقل قومی اسمبلی کی نشست سے کامیاب ہو چکے ہیں اور گزشتہ انتخابات میں یہاں کی صوبائی اسمبلی کی نشست سے بھی کامیاب ہوئے تھے۔

این اے 118 کو مسلم لیگ ن کو گڑھ سمجھا جاتا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس بار بھی مسلم لیگ کے امیدوار حمزہ شہباز ہی یہاں سے کامیاب ہوں گے تاہم عوامی رائے سے لگتا ہے کہ اس بار مذکورہ نشست پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مسلم لیگ ن کو ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔

ہم نیوز نے این اے 118 کی نشست پر عوامی رائے جاننے کی کوشش کی۔ دیگر حلقوں کی طرح یہاں کی عوام بھی مہنگائی کی دھائی دیتی نظر آئی کسی نے مہنگائی کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کو ٹھہرایا تو کسی نے اس کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو سمجھا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو نہ نکالتے تو ملک بہت پہلے ڈیفالٹ کر جاتا، سینیٹر افنان اللہ

مسلم لیگ ن کے سپوٹرز کا کہنا تھا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی مہنگائی کا ذمہ دار عمران خان ہے جس کی حکومت میں شروع ہونے والی مہنگائی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہمیشہ تیزی سے ترقیاتی کام ہوئے۔

پی ٹی آئی کے چاہنے والوں نے عمران خان کو دیگر سیاسی رہنماؤں سے بہت بہتر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کام کرنے نہیں دیا گیا وہی اس ملک کے ساتھ مخلص ہیں اور وہی ملک سے کرپشن کا خاتمہ کریں گے۔

حلقے کی عوام کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں مہنگائی ہوتی تھی تو شور مچایا جاتا تھا لیکن اب ہونے والی ہوشربا مہنگائی پر سب کو چپ لگ گئی ہے۔

لاہور سے پی ٹی آئی کے سپوٹرز جہاں اپنی پارٹی سے ناراض نظر آئے اور اس بار مسلم لیگ ن کو ووٹ دینی کا فیصلہ کیا تو وہیں مسلم لیگ ن کے کچھ چاہنے والے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے نظر آئے۔ خواتین نے بھی تمام سیاسی جماعتوں کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیا۔

سروے کے دوران عوام کی ایک بڑی تعداد وہ بھی رہی جس نے ووٹ دینے سے ہی انکار کر دیا۔ ان افراد نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے جبکہ اس حلقے میں بہت کم تعداد ایسے افراد کی تھی جنہوں نے دیگر جماعتوں کو ووٹ دینے کا اعلان کیا۔


متعلقہ خبریں