ہم فیکٹ چیک: آرمی ٹینک پر احتجاج ؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف پشاور میں مظاہرین کے آرمی ٹینک پر چڑھ کر احتجاج ریکارڈ کرنے کی ویڈیو کی حقیقت ہم نیوز سامنے لے آیا۔

واضح رہے گزشتہ روز وزیرآباد کے مقام پر پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں فائرنگ کا واقع پیش آیا، جس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ٹانگوں پر گولیاں لگیں، جبکہ ان کے کئی ساتھی بھی شدید زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور شوکت خانم اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

جبکہ رات ہی ملک بھر کے مختلف مقامات پر عوام سڑکوں پر نکل آئی اور اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اسی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ، جس میں پشاور میں موجود مظاہرین ایک بکتر بند گاڑی کے اوپر چڑھ کر نعرے بازی کرتے نظر آئے، اس ویڈیو کو پاک آرمی کے ٹینک سے جوڑ دیا گیا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ہم نیوز فیکٹ چیک

ہم نیوز کی ٹیم نےاس ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیق کی جس میں یہ  حقائق سامنے آئے ہیں کہ  یہ ویڈیو پاکستان آرمی کے ٹینک کی نہیں بلکہ  پولیس اے پی سی ہے۔

دراصل یہ بکتر بند گاڑی ، خیبر روڈ پشاور کینٹ کے آغاز میں کافی عرصے سے ہی موجود ہے، یہاں موجود چیک پوسٹ مشہور خیبر روڈ جسے جمرود روڈ بھی کہا جاتا ہے، پر لگتا ہے۔

کینٹ کی حدود کے آغاز پر پہلا دروازہ الٹے ہاتھ پر، پشاور ہائی کورٹ کا ہے، اس دروازے سے کچھ ہی فرلانگ پہلے خیبر پختونخوا کی چیک پوسٹ ہے، جس پر یہ بکتر بند گاڑی پچھلے کئی ماہ سے سیکورٹی کے فرائض سرانجام دے رہی ہے، تو جو احتجاجی شرکا ہیں وہ اس گاڑی پر کھڑے تھے جو کور کمانڈر کے گھر کے کچھ فاصلے پر کھڑی رہتی ہے۔

اس پر پاکستانی صحافی وجاہت خان نے بھی بغیر تصدیق کیے ٹوئٹ میں اسے پاک فوج کی بکتر بند گاڑی قرار دے دیا، انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی 75 سال کی تاریخ میں ایسے مناظر کبھی دیکھنے کو نہیں ملے۔


جس پر کئی صارفین نے ان کی تصیح بھی کی، سینیئر صحافی مشتاق یوسف زئی نے لکھا کہ یہ ملٹری ٹینک نہیں ہے بلکہ پولیس اے پی سی ہے، اور پشاور میں احتجاج بہت پرامن تھا ، مظاہرین میں سے کچھ کور کمانڈر پشاور کے مرکزی دروازے کے باہر جمع ہوئے اور نعرے لگائے تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے انہیں ’شرپسند‘ قرار دیا ہے۔

جس کے بعد وجاہت خان نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں اپنی غلطی تسلیم کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ یہ آرمی ٹینک نہیں بلکہ پولیس اے پی سی تھی۔

متعلقہ خبریں