پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کے دوران پورے اختیارات نہیں ملے، تمام کاموں کی ذمہ داری میری تھی لیکن اصل طاقت کسی اور کے پاس تھی.
سینئرصحافیوں سےملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں آدھی پاور بھی مل جاتی تو شیر شاہ سوری سے مقابلہ کر لیتے، وزیراعظم ہاؤس کی فون لائنز کی سرویلنس ہوتی ہے ٹیپ کر کے ریلیز کرنا غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی کال میں زیادہ دیر نہیں، کسی بھی وقت کال دے سکتا ہوں، جیل جانے کیلئے ہر وقت تیار ہوں، میرا اسٹیمنا نواز اور شہباز شریف سے زیادہ ہے۔
فون لائنز کی سرویلنس ہوتی ہے ٹیپ کر کے ریلیز کرنا غلط ہے، عمران خان
انہوں نے کہا کہ جب ٹین ایجرتھا تو دعا کرتا تھا 30 سال سے آگے زندگی نہ ہو۔ 30 سے 40 کا ہوا تو وہ عمر بہتر تھی،اب شاید کوئی آدمی ہوجو 70 سال کی عمر میں سوچے کہ بڑا چیلنج اس کے سامنے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر10 سال گزشتہ زندگی سے بہتر ہوتے گئے کیونکہ میں چیلنج قبول کرتا تھا،جس وقت سپورٹس مین کی زندگی سےچیلنج ختم ہوتاہےزندگی رک جاتی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جب پیسےختم ہوتے تھے تو کرکٹ پر تبصرے کرتا تھا، جب قوم محنت کرنا اور جدوجہد کرنا چھوڑدے اور بھکاری بن جائے تو بہت برا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں رہ کرپتہ چلاپاکستانیوں کےاربوں روپےباہر ہیں۔
،
