سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو الیکشن جتوانے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ لوگ اپنی پسند کی حلقہ بندیاں کررہےہیں۔
اس موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حلقہ بندیوں پر اعتراض آرہے ہیں،الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتماد نہیں،
چیئرمین واپڈا کے مستعفیٰ ہونےکےبعد واپڈا کی ریٹنگ گرگئی، ہم نے ڈیمز کے10 بڑے نئے منصوبوں پر کام شروع کیا، ہم نے ساڑھے تین میں وہ کچھ نہیں کیا جو انہوں نے ایک ماہ میں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ کرپشن کیسز ختم کرناتھے، روس کے ساتھ سستے تیل کا معاہدہ ہوگیاتھا، دورہ روس کے بعد پاکستان آیا تو عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی گئی۔
عمران خان نے کہا کہ ایک ناجائز کام کو جائز قرار دینے کے لیے تمام اداروں کو کمپرومائز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں اپنے بندے رکھیں گےتو یہ ادارہ بھی بے توقیر ہو جائے گا۔
گستاخانہ بیان: حکومت مودی سے تعلقات اور کاروبار ختم کرے، عمران خان
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے کیسز سے نکلنے کے لیے نیب پر پتھراو کیا اور مرحوم ڈاکٹر رضوان کو باقاعدہ دھمکیاں دیں، دنیا میں کہیں بھی ملزم قاضی نہیں بن سکتا، ایک کرپٹ شخص کوآئی جی اسلام آباد تعینات کیا گیا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کاسب سے بڑا مسئلہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کی قلت ہے، پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی مہنگائی کبھی نہیں ہوئی۔ ہمارے دور میں معیشت 6 فیصد سے ترقی کر رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس نے 4 روپے پیٹرول اور ڈیزل قیمت میں اضافہ پر لانگ مارچ کیا، انہوں نے 45 فیصد تیل کی قیمت میں کمی کی۔
عمران خان نے کہا کہ میں چند دنوں میں لانگ مارچ کی تاریخ دے رہا ہوں،اس ملک کاسب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا، سپریم کورٹ سے جیسے ہی فیصلہ آئے گا میں لانگ مارچ کی تاریخ دوں گا، میں جب تاریخ دوں گا توآپ سب کی تیاری ہونی چاہئے۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اگلی ٹرم کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دو پینلز کے امیدوار عمران خان کے حق میں انتخاب سے دستبردار ہوئے ہیں۔ ایک پینل کی سربراہی عمر سرفراز چیمہ، دوسرے کی نیک محمد کررہے تھے۔
دوسری جانب شاہ محمود قریشی وائس چیئرمین، اسدعمر مرکزی سیکریٹری جنرل بن گئے۔
