علاج کے لیے رہائی نہ ملی، موت مل گئی، مرنے کے 2 سال بعد سماعت

فوٹو: فائل


علاج کے لیے رہائی نہ ملی، موت مل گئی، سپریم کورٹ میں طبی بنیادوں پرسزا معطلی کی درخواست دینے والے شخص کے انتقال کے 2 سال بعد درخواست پرسماعت ہوئی۔

عدالت نے ملزم کے فوت ہوجانے پرضمانت کی درخواست نمٹا دی، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیس غیر موثر ہوگیا، عدالت نے متوفی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ:مونال سیل کرنے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد

دوران سماعت متوفی لعل خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ طبی بنیاد پر فروری 2020 میں سزا معطلی کی درخواست دائر کی تھی۔ مارچ 2020 میں لعل خان کینسر سے لڑتا ہوا جیل میں ہی فوت ہوگیا۔ درخواست آج 2 سال بعد مقرر ہوئی ہے، جیل اور اسپتال انتظامیہ نے لکھ کر دیا تھا کہ علاج کی سہولت نہیں۔

لعل خان کی سزا کیخلاف مرکزی اپیل سنی جائے، لعل خان کو اغواء کے جرم میں انسداد دہشتگردی عدالت نے عمر قید سنائی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، لعل خان 2012 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید تھا۔


متعلقہ خبریں