اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جا رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے ہم نیوز کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ ود مالک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری وزارت کے دوران اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ تعاون کیا اور مارشل لا ہمیشہ شخصیات کے ٹکراؤ کی وجہ سے لگے جبکہ اسٹیلشمنٹ اور آئینی اداروں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ، میڈیا اور پارلیمنٹ سمیت تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں اور نواز شریف ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ حکومت اب دوبارہ آئی ایم ایف جارہی ہے اور آئی ایم ایف حکومت کو ایک ایجنڈا پکڑائے گی۔ ہم صاف انتخابات چاہتے ہیں جبکہ ایک ہی پیج پر آنا اور یہ بوجھ اٹھانا بہت مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ انتخابات شفاف ہوئے میں ہر پولنگ اسٹیشن پر گیا کوئی مداخلت نظر نہیں آرہی تھی۔ ایک ہفتہ قبل حزب اختلاف کا اجلاس ہوا تھا اور اجلاس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی بھی شامل تھی جبکہ میں ذاتی طور پر بات چیت کے حق میں ہوں اور اہم معاملات میں بات چیت ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو مزید مہلت مل گئی
خواجہ آصف نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ہماری دائمی دشمنی ہے اور ہم نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں بھی مداخلت نہیں کرنی ہے جبکہ تمام جماعتوں کا مؤقف بھی یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ عدالتیں انصاف نہیں کر سکتیں کیونکہ مجھے نااہل کیا گیا لیکن عدالتوں سے ریلیف ملا۔ پارٹی لیڈر شپ آج بھی نواز شریف کے پاس ہے لیکن نواز شریف کو چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
رہنما مسلم لیگ نے کہا کہ مریم نواز کے لیے 2023 نہیں بلکہ 2028 موجود ہے۔ مسلم لیگ ن فاشسٹ پارٹی نہیں جمہوری جماعت ہے کیونکہ فاشسٹ پارٹی وہ ہوتی ہے جہاں کوئی اختلافات نہیں ہوتے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہمارے تو نچلی سطح پر بھی اختلافات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے انتخابات میں وزیر اعظم کا امیدوار کون ہو گا یہ فیصلہ نوازشریف کریں گے۔
