کراچی: کراچی میں پولیس حراست کے دوران ملزم کی ہلاکت کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ قتل کا مقدمہ تھانہ سہراب گوٹھ کے ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
ہم نیوز کے مطابق عدالت نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ ایف آئی آر ہلاک ملزم کے رشتہ دار کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔
ملزم کی ہلاکت گزشتہ دنوں تھانہ سہراب گوٹھ میں ہوئی تھی۔ متوفی کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاکت ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ ستمبر میں کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں منشیات فروشوں کی ہلاکت کا معاملہ معمہ بن گیا تھا۔ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے فیصل ابڑو کے اہلخانہ نے الزام لگایا تھا کہ وہ بے گناہ تھا پولیس نے ماورائے عدالت قتل کیا۔
مزید پڑھیں: پولیس کے زیرحراست ملزمان کی ہلاکت اور تشدد کے پے در پے واقعات
فیصل ابڑو کے کزن عرفان نے کہا تھا کہ میرا کزن فیصل ابڑو لاڑکانہ سے کراچی رشتے داروں سے ملنے آیا تھا اور اس کا نام فیصل ہے، سرتاج عرف تاجو نہیں۔
ورثا نے الزام عائد کیا تھا کہ نمازیوں نے بتایا فیصل کو خطبہ جمعہ کے دوران مسجد سے حراست میں لیا گیا اور گولیاں مارنے کے بعد پولیس اہلکار فیصل کو لے گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فیصل پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
دوسری جانب پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ فیصل عرف سرتاج عرف تاجو ایک ہی شخص ہے اور مقابلے کے بعد ملنے والا شناختی کارڈ بھی فیصل ابڑو کے نام سے تھا جبکہ مارے جانے والے ملزم کا بھائی بھی منشیات فروش ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق سرتاج پر 12 مقدمات درج تھے لیکن کسی مقدمے میں فیصل نام درج نہیں تھا۔
