کراچی: ریلوے حکام نے کراچی کے سرکلر پٹڑی پر ٹرین کو آزمائشی طور پر چلادی۔
کراچی سرکلر ٹرین چار بوگیوں اور دونوں طرف انجن کے ساتھ آزمائشی پر چلادی گئی۔ ٹرین نے 14 کلومیٹر کا راستہ دو گھنٹے میں طے کیا۔ ٹریک کی حالت انتہائی خراب ہونے کے سبب ٹرین نے فاصلہ طے کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لیا.
دوسری جانب سرکلر ٹرین کا ٹائم ٹیبل جاری کردیا گیا۔ ٹرین پپری مارشلنگ یارڈ سے براستہ ایئرپورٹ، کراچی سٹی اور وزیر مینشن سے اورنگی ٹاون تک چلائی جائے گی۔
شیڈول کے مطابق ٹرین دو گھنٹے پانچ منٹ میں یہ فاصلے طے کرے گی۔ ٹرین پپری مارشلنگ یارڈ سے صبح 7 بجے روانہ ہوکر 9بجکر 50 منٹ پراورنگی ٹاون پہنچے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان ریلوے کا کراچی سرکلر ریلوے بحال کرنے کا فیصلہ
اورنگی اسٹیشن پر کراسنگ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کے دونوں جانب انجن لگائے جائیں گے۔ راستے میں بارہ اسٹاپ ہوں گے اور ٹرین ہر اسٹاپ پر ایک منٹ رکے گی۔
جاری شیڈول کے مطابق ابتدائی طور پر کراچی سرکلر ٹرین اپ اینڈ ڈاؤن دن میں چار دفعہ چلائی جائے گی۔ ٹریک خراب ہونے کے سبب ٹرین 15 سے بیس کلو میٹر تک فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ نہیں چلائی جاسکتی۔
ریلوے حکام ٹرین چلانے جارہے ہیں لیکن سٹی اسٹیشن سے اورنگی تک تمام اسٹیشنز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کسی اسٹیشن پر پلیٹ فارم اور ٹکٹ گھر بھی درست حالت میں نہیں ہے۔
خیال رہے کہ فروری میں سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو کراچی سرکلر ریلوے کی زمینوں سے قبضے ختم کرائےکا حکم دیا تھا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی رجسٹری میں سرکلر ریلوے اور لوکل ٹرین کی بحالی سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں کچھ نہیں سننا، یہ بتائیں ہمارے فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا؟
ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا تھا کہ سی پیک کی وجہ سے معاملات حکومتوں کے مابین ہیں، ماضی کا سرکلر ریلوے بحال کرنا ممکن نہیں، 24 گیٹ تھے اور اب بیشتر پر قبضے ہو چکے ہیں۔
