اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں انہوں نے ترک فوجیوں کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے طیب اردوان کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور بھارت میں مسلم کش فسادات کے بارے میں بھی بتایا ہے۔
واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل شام کے علاقے ادلب میں بشار الاسد کی سرکاری فوج نے فضائی حملہ کر کے 33 ترک فوجیوں کو ہلاک جبکہ سینکڑوں کو زخمی کر دیا تھا۔
ترک حکام نے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ترکی شامی فوج کے اہداف کے خلاف جوابی کارروائی کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: شام: جنگجوؤں کے قافلے پر فضائی حملے میں 8 ہلاک
دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوگان نے اعلی سطحی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا تھا جس کے فوری بعد ترک فوج نے شامی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔
ترکی کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج ان علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں جہاں ترکی نے چوکیاں قائم رکھی ہیں اور اس سے قبل یہ دھکمی بھی دی گئی تھی کہ اگر شامی فوج کی پیش قدمی نہیں رکی تو ان پر حملہ کر دیا جائے گا۔
اس کارروائی کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی صورت میں ادلب میں کارروائیاں نہیں روکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی کے حملے کو روکنے کے لیے تل تمر میں شامی فوج تعینات
انہوں نے یورپی یونین کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ساتھ نہ دیا تو مہاجرین کے لیے یورپ جانے کے دروازے کھول دیں گے۔
مزید برآں دو روز قبل ترک فوج نے شمالی مشرقی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے شام کے 2 جنگی طیاروں کو مار گرایا تھا۔
اس ضمن میں ترکی کے وزیر دفاع نے بتایا تھا کہ شامی فوج کی جانب سے ترک ڈرؤن گرائے جانے کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جس میں ترکی کے ایف 16 طیاروں نے شام کے روسی ساختہ سکھوئی جیٹ طیارے مار گرائے ہیں۔
