’کراچی میں سب بیچ دو کی پالیسی چل رہی ہے‘

عدالت کا سندھ حکومت کو پولیس اہلکاروں کے بچوں کو فوری نوکریاں دینے کا حکم

کراچی : سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نیب انکوائریز کی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے  کہا ہے کہ  بیشتر تفتیشی افسر جعلی اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی میں  لگ گئے ہیں۔ ہر افسر کہتا ہے کہ وہ وہاں مصروف ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، کراچی میں سب بیچ دو کی پالیسی چل رہی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں سوسائٹی کے نام پر شہریوں سے فراڈ کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ عدالت کے حکم پر ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نےعدالت میں موجود نیب حکام سے استفسار کیا کہ  جعلی اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی آخر کب ختم ہوگی؟ بیشتر تفتیشی افسروں کو وہاں لگا دیا گیا ہے۔ ہر بار ان افسروں کا ایک ہی جواب ہوتاہے کہ وہ جے آئی ٹی میں مصروف ہیں۔

ڈی جی آپریشنز نیب نے بتایا کہ کچھ تفتیشی افسروں کو زیادہ کیسز دیے گئے ہیں۔ کوشش کررہے ہیں کہ نیب انکوائریز مزید التوا کا شکار نہ ہوں۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ نیب نے بلاجواز لوگوں کے اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں نے بھی تو اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ سب بیچ دو کی پالیسی چل رہی ہے۔ کراچی میں قبرستان ،فٹ پاتھ سب  کچھ بیچ دیا گیا ہے۔

عدالت نے ملزم عبدالسلام اور دیگر کے خلاف پچیس ستمبر تک انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے: نیب نے خورشید شاہ کے خلاف باضابطہ طور پر تحقیقات شروع کردیں


متعلقہ خبریں