کراچی: زیر حراست شہری کی ہلاکت کا معمہ تاحال حل نہ ہوسکا


کراچی: ڈیفنس پولیس کے مبینہ تشدد سے زیر حراست 45 سالہ شہری کی ہلاکت کا معمہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔ پولیس حکام شہری کے پولیس حراست میں موجودگی سے متعلق بھی ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔

ہلاک ہونے والے شہری قائم علی کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تو حقائق جاننے کے لیے قائم مقام کراچی پولیس چیف ولی اللہ دل خود ڈیفنس پولیس اسٹیشن پہنچے اور ماتحت افسروں اور اہلکاروں سے دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔

سینیئرسپرنٹنڈنٹ پولیس(ایس ایس پی) ساؤتھ پیر محمد شاہ کہتے ہیں کہ دو پولیس اہلکار زیر حراست ہیں۔

اسپتال ذرائع کے مطابق مقتول کے جسم پر بظاہر تشدد کا کوئی نشان نہیں تھا تاہم جسم کے اجزا کو محفوظ کرکے کیمیکل ایگزامن کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی وجہ کا تعین ہو سکے گا۔

قائم علی کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شہری جس بنگلے پر ملازمت کرتا تھا اس کے مالک کی جلد گرفتاری متوقع ہے۔ پولیس نے مقدمے میں نامزد بنگلے کے مالک طارق کی تلاش میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردی ہیں۔

معاملے کی طے تک پہنچنے کے لیے اسپتال میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے بھی معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

پیر محمد شاہ  کا اسی مناسبت سے کہنا ہے کہ ابتدائی طور پہ شہری کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہی ہوئی، ورثاء کی درخواست پر مقدمے میں پولیس پارٹی کو نامزد کیا ہے۔

اس سے قبل لاکھوں روپے رشوت نہ دینے پر پولیس حراست میں جاں بحق ہونے والے ڈرائیور کے بھانجے محمد اقبال کے مطابق مبینہ طور پر ڈرائیور کے مالک کا دوست اور اس کے ساتھ موجود خاتون 5 لاکھ روپے رشوت دے کر رہا ہو گئے تھے جس کے بعد آئی جی سندھ کلیم امام نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے اس واقعے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

دوسری جانب پولیس کا دعویٰ ہے کہ درخشاں کے علاقے کے رہائشی طارق مصطفیٰ نامی شخص کے ڈرائیور قائم علی کو گزشتہ روز ڈیفنس پولیس قومی ادارہ برائے امراض قلب لے کر آئی تھی جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کی جس کے بعد مبینہ طور پر پولیس اہلکار اسے چھوڑ کر اسپتال سے چلے گئے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ اور دیگر افراد کے ہمراہ جب قائم علی کے ورثاء نے ڈیفنس تھانے کے قریب احتجاج کیا تھا تو اس کے بعد واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا اور مقدمہ درج ہونے کے بعد ڈیفنس تھانے کے تین پولیس اہلکاروں کو نامزد کر کے گرفتار کر لیا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں