سویت جنگ میں تعاون کے باوجود امریکا نے ساتھ چھوڑا، وزیراعظم


اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکی جنگ میں پاکستان نے بہت کچھ کھویا ہے اب ہم کسی اور کی جنگ نہیں لڑیں گے۔

غیر ملکی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ ہم واشنگٹن کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور پاکستان نے امریکی جنگ میں بہت کچھ کھویا ہے لیکن اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے ملک اور عوام کے لیے بہتر ہوگا۔

طالبان سے متعلق بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کو اپنی پناہ گاہیں نہیں دیں جب کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کئی بار امریکہ سے طالبان کی پناہ گاہوں کے بارے میں پوچھا لیکن امریکہ کی جانب سے کبھی کوئی مناسب جواب نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے جس کے لیے ہم سب کچھ کریں گے جب کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ پاک افغان بارڈر کی نگرانی سیٹلائٹ اور ڈرونز کے ذریعے کر رہا ہے اور اگر دہشت گرد بارڈر پار کرتے تو امریکہ کی نظروں سے نہیں بچ سکتے ہیں جب کہ نائن الیون کے واقعے میں کسی بھی پاکستانی کا ہاتھ نہیں تھا۔

عمران خان نے بیرونی امداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کے لیے مدد کی ضرورت ہے اور سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے کچھ مدد ملی ہے جب کہ رقم کی تفصیلات حکومتیں راز رکھنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں میں ہم نے آئی ایم ایف کے 16 پروگرام لیے اور اگر اب آئی ایم ایف کے پاس گئے تو یقینی بنائیں گے کہ یہ آخری بار ہو۔

پاک بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امید ہے کہ بھارت انتخابات کے بعد مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرے گا۔ ممبئی حملہ دہشت گردی تھی اور اس کا کیس جلد ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے۔


متعلقہ خبریں