اسلام آباد: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا اور اس مؤقف کو معاہدے کی شکل دینے کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم کسی بھی اضافی مطالبات یا شرائط کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ مذاکرات کے پہلے دور میں مکمل تیاری موجود تھی۔ اور کسی نتیجے تک پہنچا جا سکتا تھا۔ مگر امریکی وفد ماضی کی طرح اس بار بھی مذاکرات ادھورے چھوڑ کر چلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید امریکا نیتن یاہو کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران آئندہ مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کی جائے تو کسی بھی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل جو کچھ مذاکرات کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے۔ وہ جنگ کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی لچک دکھا چکا ہے اور اب بھی تیار ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔ جبکہ مذاکرات میں ایران کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نہ مانا تو امریکا دوبارہ جنگ کرنے کیلئے تیار ہے، امریکی وزیر جنگ
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس حوالے سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور انہی کی کاوشوں کے باعث آئندہ مذاکرات کی نئی تاریخوں کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔
