پی کے 23 شانگلہ میں پولنگ کا عمل جاری

پی کے 23 شانگلہ ون میں ری پولنگ کل ہوگی|humnews.pk

شانگلہ: خیبرپختونخوا ( کے پی ) کے ضلع شانگلہ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 23 میں پولنگ کا عمل فوج کی نگرانی میں جاری ہے۔

کے پی میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 23 پر ضمنی انتخابات آج ہو رہے ہیں جس کے لیے پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوا۔ انتخابی عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔

پولنگ کے دوران مرد اور خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا جب کہ پولنگ اسٹیشن پیر آباد میں مسلم لیگ نون کے پولنگ ایجنٹ نہ ہونے کی وجہ سے دو گھنٹے تک پولنگ کا عمل تاخیر کا شکار رہا۔

الپورئی کے خواتین پولنگ اسٹیشن پر مکمل سناٹا ہے اور پولنگ کا عملہ ووٹرز کی راہ تک رہا ہے تاہم دوپہر 12 بجے تک کوئی کوئی خاتون ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئیں۔

بشام کے خواتین پولنگ اسٹیشن پر دوپہر 12 بجے کے بعد خواتین ووٹرز کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور علاقے کے عمائدین خواتین ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کے لئے آمادہ کر رہے ہیں البتہ چار گھنٹے گزرنے کے بعد بھی خاتون ووٹرز کا ٹرن آوٹ انتہائی کم ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ حلقے میں 135 پولنگ اسٹیشنز میں سے 89 مرد و خواتین کے لیے اکھٹے بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ ایک بار پھر کم ہونے کا خدشہ ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق کوئی بھی ووٹر یا امیدوار شکایت کی صورت میں قائم کردہ کنٹرول روم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور شکایت درج ہونے کی صورت میں  فوری طور پر ازالہ کیا جائے گا۔

حلقے میں پولنگ شروع ہونے کے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد صبح ساڑھے نو بجے تک کسی خاتون کا ووٹ کاسٹ نہیں ہوا تھا جب کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے امیدوار شوکت یوسف زئی نے اپنا ووٹ صبح دس بجے کاسٹ کیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب کے دوران پولنگ اسٹشنز کے اندر اور باہر فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔

پی کے 23 شانگلہ کے حلقے میں کُل ووٹرز کی تعداد دو لاکھ پانچ سو 55 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 13 ہزار آٹھ سو 27 ہے جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد 86 ہزار سات سو 28 ہے۔

حلقے میں مردوں کے لیے 25 اور خواتین کے لیے 21 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جب کہ مردوں اور خواتین کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 89 ہے۔ حلقے کے 18 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جب کہ 35 کو حساس قراردیا گیا ہے۔

حلقے میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے شوکت یوسف زئی کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ایک دھڑے، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور گجر برادری کی حمایت حاصل ہے جب کہ مخالف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو متحدہ مجلس عمل اور اے این پی کے ایک دھڑے کی حمایت حاصل ہے۔

عام انتخابات کے دوران شانگلہ کے حلقے میں خواتین کے دس فیصد سے بھی کم ووٹ کاسٹ ہونے پر الیکشن کمیشن نے انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔


متعلقہ خبریں