ہندو برادری کا رکشا بندھن


اسلام آباد: ہندو کمیونٹی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج رکشا بندھن کا تہوار منارہی ہے۔ رکشا بندھن کے تہوار کو راکھی کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔

ہندو رسم و رواج کے مطابق اس دن بہنیں بھائیوں کے ہاتھ پر راکھی باندھتی ہیں، ان کی درازی عمر، خوشحالی اورترقی کی دعائیں کرتی ہیں اور ان کو مٹھائی یا کوئی بھی میٹھی چیز کھلاتی ہیں۔ بھائی بھی بہنوں کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔ بھائی بساط بھر بہنوں کو تحفہ یا رقم دیتے ہیں۔

ہندو دھرم کو ماننے والے یقین رکھتے ہیں کہ راکھی رسماً تو ’دھاگہ‘ ہے جو بہنیں اپنے بھائیون کی کلائی پر باندھتی ہیں لیکن درحقیقت یہ نہایت مضبوط رشتہ ہے جس کو کسی بھی چیز سے توڑنا ناممکن ہے۔

رکشا بندھن کے تہوار کو ہندو برادری میں نہایت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ رنگ برنگی دھاگوں کو راکھی کے طورپر بھائیوں کی کلائی پر بہنیں باندھتی اوران سے عہد لیتی ہیں۔ بہن بھائی بے چینی سے اس تہوار کا انتظار کرتے ہیں۔

ہندو کمیونٹی میں لڑکیاں یا خواتین اس مرد کو بھی راکھی باندھتی ہیں جس کو وہ اپنا بھائی سمجھتی ہیں۔ راکھی بندھوانے والے بھی پھر اسی طرح راکھی باندھنے والی لڑکی کا مان رکھتے ہیں جس طرح سگی بہن کا رکھا جاتا ہے۔

سماجی اعتبارسے رکشا بندھن میل ملاقات کا ایک بہانہ بھی ہوتا ہے جس میں اہل خانہ خوشیاں مناتے ہیں اور اکھٹے کھانا کھاتے ہیں۔

پاکستان میں آباد ہندو برادری بھی پورے جوش و خروش سے رکشا بندھن کا تہوارمنا رہی ہے اورلڑکیاں بھائیوں کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہوئے انہیں راکھی باندھ رہی ہیں۔


متعلقہ خبریں